خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد 16 137 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء سے بالکل بے آواز ہے، کامل سکوت ہے اور جتنے سیارے خدا تعالیٰ نے دوسرے سیاروں کے ساتھ باندھے ہوئے ہیں ان کے متعلق بار بار انسان کو توجہ دلاتا ہے غور کرو اس بات پر۔اتنا بڑا نظام اور اتنا قوت کے ساتھ منظم کر دیا گیا ہے اور اس طرح مسخر کر دیا گیا ہے کہ مجال نہیں ہے کہ اپنے رستوں سے وہ ہٹ کر کسی اور طرف جاسکیں، ایسے ستونوں سے باندھا گیا ہے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے۔سننا تو درکنار دیکھا بھی نہیں جاسکتا یا دیکھنا تو در کنار سنا بھی نہیں جا سکتا ، کامل خاموشی ہے اور اس مسئلے پر سائنسدان حیران ہیں کہ اتنی بڑی طاقت اور خرچ کچھ نہیں ہو رہا، معمولی سا انجن چلانے کے لئے بھی آپ کو جتنے کوئلوں کی ضرورت ہے زمین اپنی ساری کشش ثقل میں اتنی توانائی بھی خرچ نہیں کر رہی۔تو محبت کا مضمون ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے متوجہ فرمایا ہے۔تم اپنے گھر کی کائنات بھی نہیں چلا سکتے اگر محبت کے رشتے نہ باندھے جائیں تو پھر مادی کائنات کا معاملہ ہو یا روحانی کائنات کا معاملہ ہو اس مضمون کو سمجھو کہ سب سے بڑی طاقت جس کے ذریعے ادنی اور اعلیٰ سب مسخر کئے جاسکتے ہیں وہ محبت کی طاقت ہے۔پس اس مضمون میں جو آنحضرت ﷺ کے تعلق میں بیان فرمایا گیا دراصل ہر انسان کو اس کی پیدائش کا راز سمجھا دیا گیا ہے اس کی ساری زندگی، اس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے گر سمجھا دیئے گئے ہیں کہ تم نے اگر کچھ حاصل کرنا ہے تو محبت کے جذبے سے حاصل کر سکتے ہو نفرتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ شیطان اور انسان کی کہانی کے تعلق میں میں ہمیشہ جماعت کو سمجھاتا رہا ہوں کہ دوہی باتیں ہیں جو بیان ہوئیں اور وہ دونوں باتیں ازل سے بچی ہیں ابد تک رہیں گی ، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔دو طاقتیں ہیں ایک ناری طاقت ہے اور ایک نمو کی طاقت ہے۔نمو کی طاقت وہ ہے جو گیلی مٹی سے بنتی ہے یعنی پانی بکھرے ہوئے اجزاء کو اکٹھا کر دیتا ہے اور جڑنے لگتے ہیں تمام نشو ونما اس سے ملنے کی طاقت سے پیدا ہوتی ہے۔ہر چیز جو بکھرتی ہے، ہر نظام جو بگڑتا ہے، ہر منظم چیز جو تتر بتر ہو جاتی ہے ، وہ آگ کی طاقت سے ہوتی ہے۔مادی دنیا میں بھی یہی حال ہے اور روحانی دنیا میں بھی یہی حال ہے۔نفرتیں کسی گھر میں داخل ہو جا ئیں تو کچھ بھی نہیں چھوڑتیں۔بیوی خاوند سے جدا ہو جاتی ہے، بچے ماں سے اور باپ سے، بھائی بہن ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور یہ وہ مضمون ہے جس کی گہرائی تک جانا استغفار کو سمجھنے کے لئے لازم ہے۔