خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد 16 136 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء اپ کے پیچھے چلنے کے لحاظ سے ضروری نہیں کہ طبعاً آمادہ ہوں محنت کر کے، کوشش کر کے پیچھے چلنا تو اور بھی مشکل کام ہے چنانچہ بہت سے نیک ماں باپ ہم نے دیکھے جن کے بچے ان کا رستہ چھوڑ کر دوسرے رستوں پہ چل پڑے اور جنہوں نے ان کو پسند بھی کیا ان کو عزت بھی دی وہ ان جیسا بننے سے محروم رہے کیونکہ نیکی کے رستے پر چلنا محنت طلب کام ہے لیکن جن کو جتنی زیادہ محبت ماں باپ سے ہو اتنا ان کے لئے وہ کام آسان ہوتا چلا جاتا ہے یہ بھی ہم نے دیکھا اور یہ ایک دائمی مضمون ہے۔وہ تمام بچے جو ماں باپ کی نیکیوں سے محروم رہ جاتے ہیں آپ ان کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں ان کے دل میں اپنے ماں باپ کی محبت نہیں ہوتی اور جن کو محبت ہو ان کے لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ اپنی الگ راہیں تلاش کریں یا الگ راہیں تراش لیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں بلا استثناء ہم نے اس مضمون کو سچے ہوتے دیکھا ہے، ہر وہ اولاد جس نے اپنے ماں باپ سے محبت کی ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہے اور ان کے لئے ان رستوں پر چلنا آسان کر دیا۔تو گناہوں کا راز بھی محبت میں ہے اور گنا ہوں سے بچنے کا راز بھی محبت میں ہے محبت ہی وہ آخری تقدیر کا نکتہ ہے جس کے تابع سب تدبیریں ہیں اور تقدیر الہی بھی اسی محبت سے بنائی گئی ہے۔چنانچہ وہ آخری طاقت جس سے مادی دنیا بنی ہے وہ Gravitational Pull ہے یعنی مقناطیسی طاقت جو خدا تعالیٰ نے ہر مادے میں رکھ دی ہے اس کو نکال دیں تو ساری کائنات بے حقیقت ہو کر بکھر جائے ، کچھ بھی اس کا باقی نہ رہے۔یہی وہ طاقت ہے جس سے سارا نظام کائنات چل رہا ہے۔اتنی وسیع کائنات کہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آپ حرکت کریں تو میں ارب سال میں بھی نہ پہنچ سکیں اور وہ حرکت روشنی پر سوار ہو کر کی جائے یعنی ہر لحہ آپ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی رفتار سے دوڑ رہے ہیں یا اڑ رہے ہیں اور پر لے کنارے پر بیس ارب سال میں بھی نہیں پہنچ سکتے اتنازیادہ فاصلہ ہے کیونکہ جب وہاں پہنچیں گے تو وہ اور زیادہ دور ہٹ چکی ہوگی کائنات پھیل چکی ہوگی۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کائنات ہے اس کو سنبھالا کیسے ہے اللہ تعالیٰ نے۔چھوٹے سے روز مرہ کے نظام کو بھی کسی طاقت سے چلایا جاتا ہے۔اتنا بڑا نظام نہ اس میں شور، نہ کوئی شرا بہ یعنی شور شرابے سے مراد یہ ہے کہ نظام کی حرکت کے لحاظ سے کوئی شور نہیں ہے اس کو قابو ر کھنے کے لحاظ