خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 138
خطبات طاہر جلد 16 138 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء پس محبت کے مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو بیان فرما رہے ہیں یہ اس کے طبعی نتائج ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں تا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام پوری گہرائی سے سمجھ آسکے ، فرماتے ہیں: بلکہ محبوب الہی بننے کی خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قُلْ يُعِبَادِی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قل یا متبعی ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ: 193) اے میری اطاعت کی خواہش رکھنے والو۔اے میرے پیچھے چلنے کی تمنالے کر آنے والو، اے دعویدارو، یہ سارے مضمون یہاں متبعین میں آگئے ہیں یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہورہے ہو۔اب یہ جو نکتہ ہے بہت ہی اہم ہے سمجھنے والا۔ایک طرف متبعی فرمایا جائے اور کہا یہ جائے الله کہ تم کبائر میں مبتلا ہو تو متبعی کیسے ہو گئے۔غلام محمد رسول اللہ ﷺ کے اور کبائر میں مبتلا ہوں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے میں نے اس کا ترجمہ یہ کیا تھا کہ اے میری اتباع کی خواہش رکھنے والو۔اے میری غلامی کا دم بھرنے والو! اے وہ جو اقرار کرتے ہو صبح شام که اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمداً عبده و رسوله یہ اقرار تو کرتے چلے جاتے ہو لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اگر میری غلامی کا دم بھرتے ہو تو یہ گناہوں کے بوجھ کیا لئے پھر رہے ہو۔اتنے گناہ کہ صبح سے شام، شام سے رات ، رات سے پھر صبح اور چوبیس گھنٹے کے اکثر لمحے تمہارے گناہوں کے خیالات میں مبتلا گزرتے ہیں۔اگر توفیق نہ بھی ملے تو خواہش اور حسرتیں ہیں جو اکثر گناہوں سے تعلق رکھتی ہیں لیکن نیکیوں کی حسرتیں بہت کم پائی جاتی ہیں۔پس متبعی فرما کر یہ نہیں فرمایا کہ اے میرے غلامو! تم ایسے ہو، یہ فرمایا جا رہا ہے اے میرے غلامو! تم کیسے ہو۔میرے غلام اور ایسے!!۔میرے غلام اور اتنے گناہ! یہ زیب نہیں دیتا۔پس میرے غلام بن جاؤ۔اور دوسری جگہ اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللہ میں بھی یہی مضمون ہے۔یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے دعویدار ہو کر اور حقیقت میں محبت رکھنے کے بعد تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے۔فرمایا بہت بڑا دعویٰ کر رہے ہو کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں اور بڑا مشکل دعوی کر بیٹھے ہو۔یہ دعویٰ