خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 8
خطبات طاہر جلد 16 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء کا اظہار کرے ان صلاحیتوں نے ہر انسان کو برابر کر دیا ہے۔پس اندھے کی صلاحیت اور ہے اور دیکھنے والے کی اور گویا عمل صالح کی توفیق دونوں کو ہے کیونکہ عمل صالح کی تعریف ایسی بنادی گئی ہے جو ہر ایک پر صادق آجاتی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة:287) اس اعلان نے تو ہر شک کو دور فرما دیا کہ اس دور کا قانون یہ بنا دیا گیا ہے کہ جس کو جتنی توفیق ہے اس کے مطابق اس کے فیصلے ہوں گے۔ہوسکتا ہے کوئی ہزار میل پیچھے رہنے والا ، ہزار میل آگے بڑھ جانے والے سے اوپر قرار دے دیا جائے اس لئے کہ اس نے اپنی صلاحیت کے مطابق پوری حد کر دی، اپنی حد تک جو زور مارنا تھا مار دکھایا اور جو ہزار میل آگے ہے وہ دو ہزار بھی جاسکتا تھا اس لئے اس کو نیچے کر دیا اور جو پیچھے رہ گیا اس کو اوپر کر دیا۔تو یہ عجیب و غریب قانون ہے جو عجیب و غریب تو ہے مگر بہت ہی اعلیٰ اور لطیف قانون ہے، عدل کے اعلیٰ تقاضے پورے کرنے والا ہے۔اس لئے انسان جب کسی کو کہتا ہے تم فرسٹ آگئے ہو تو اس سے تو یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ساتھ یہ ہوا تھا اور اس کے ساتھ یہ ہوا تھا۔میں ان باتوں میں محروم رکھا گیا مگر یہ اس وجہ سے ہے کہ انسان عالم الغیب نہیں ہے۔انسان ان باریک لطیف باتوں میں اتر کر مواز نے کر ہی نہیں سکتا اس لئے اس نے جھگڑا مٹا دیا یہ کہہ کر کہ ہمیں تو جو نظر آئے گا ہم اس کے مطابق فیصلہ دیں گے یہ ہمارے قوانین ہیں۔وہ پہلے پہنچا ہے تم بعد میں پہنچے ہو لیکن خدا کی نظر ان تمام لطیف باتوں پر ہے۔اس لئے وہ عدل جو احسان پر قائم ہوتا ہے میں اس کی مثال آپ کو دے رہا ہوں کہ سارے مضامین احسان ہی کے ہیں۔مگر اس پر قائم ہونے والا عدل بہت ہی خوبصورت عدل ہے۔ہر کمزور، ہر بیمار، ہر لولے لنگڑے کو ایک خوشخبری دے دی گئی ہے کہ جس دوڑ کی طرف بلا رہے ہیں وہ سارے بشر کو بلا رہے ہیں آنحضرت ﷺ کسی ایک کے رسول تو نہیں تھے۔تمام بشر، ہر بشر کے رسول تھے۔پس دعوت عام ہے اور قوانین ایسے بنا دیے کہ ہر دعوت میں شامل ہونے والا برابری کے یقین سے حصہ لے۔اب یہ جو مضمون ہے اس کے بعد فرمایا کہ ایک شرط لازم ہے وہ شرط یہ ہے کہ عمل صالح کے ساتھ خدا کا شریک نہیں ٹھہرانا کیونکہ شرک عدل کے خلاف ہے۔اور خدا جب تم سے عدل کرتا ہے، تم اس سے عدل کے بغیر سلوک کرو یہ ظلم ہے۔تبھی خدا تعالیٰ نے شرک کو عدل کے برعکس اور ظلم قرار دیا