خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد 16 9 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء ہے۔پھر اس کے عدل کا قانون تم پر نہیں چلے گا۔جو کسی سے نا انصافی کا سلوک کرتا ہے وہ اس سے انصاف کی توقع نہیں پھر رکھ سکتا۔پس فرمایا عمل صالح والی جو تمہاری صلاحیتیں ہیں ان کو ہم اسی طرح جانچیں گے جیسا کہ ہم نے بیان فرما دیا مگر ایک خدا کو ماننا اور اسی کی خاطر اپنے آپ کو جھکا دینا اور اس کے غیر پر نظر نہ رکھنا یہ شرطیں مانو گے تو پھر اپنے نقطہ آسمان کی طرف جو انتہائی بلندی کا نقطہ ہے اس کی طرف تم بھی ضرور اٹھائے جاؤ گے۔پس ہر شخص اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے گویا وہ شخص جس نے اپنی صلاحیتوں کے کمال کو ان کے درجہ کمال کی آخری حد تک پہنچا دیا وہ لازم سب سے اونچا ہوگا۔مگر ایک شرط اور ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں جو یہ ہے کہ آپ نے لمحے لمحے کا حساب دیا ہے۔اور غافل میں اور صاحب عقل انسان میں یہ بہت بڑا فرق ہے۔آنحضرت ﷺ لمحے لمحے کا حساب رکھتے تھے۔اپنی زندگی کے لمحے لمحے پر نگران رہتے تھے۔اگر ہم سالوں کا حساب بھی نہ رکھیں بلکہ دسویں سال کا بھی حساب نہ رکھیں تو یہی وہ کیفیت ہے جس کو قرآن کریم هُمْ غُفِلُونَ (الروم : 8) اصطلاح میں بیان فرماتا ہے اور جہاں جہنم کا ذکر ہے وہاں یہ وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا جہنم کا اکثر حصہ غافلوں سے بھرا ہوا ہو گا جو عُقِلُونَ ہیں۔اور پھر ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ اگر غافل ہے تو غفلت کی حالت میں گناہ کرنے کی سزا کیوں پاتے ہیں۔وہاں اس مضمون کو کھول دیا گیا، اس آیت کو میں آئندہ انشاء اللہ پھر کسی وقت اٹھاؤں گا بہت اہم مضمون ہے جو اس میں بیان ہوا ہے۔مگر بات یہ کھولی گئی ہے کہ غفلت کی حالت اگر بالا رادہ کمزوریوں سے تعلق رکھتی ہو تو اس میں انسان سزاوار ہوتا ہے اور غفلت کہہ کر جرم کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔اب ایسے شرابی جو یکم تاریخ کو شرابی بنے یا اس سے پہلے کرسمس میں شرابی ہوئے ان کے متعلق پولیس نے جگہ جگہ بے شمار چیک پوسٹیں بنائی ہوئی تھیں ان کو دیکھ کر ، ان کی نگرانی کی ، ان کو پکڑنے کی تدبیریں اختیار کی ہوئی تھیں، نئے آلے ایجاد کر نے والوں نے کئے اور پولیس ان کو لئے پھر تی تھی اور ہر ایک کے سانس کا ٹیسٹ لیتے تھے جس کا شبہ پڑے کہ وہ ذرا ڈولتا ہوا چل رہا ہے اور اس طرح کہتے ہیں کہ تقریبا نصف حادثات ہوئے ہیں اس سال لیکن جو شراب کی حالت میں کسی کو مار دیتا ہے اس کے اوپر پولیس یہ مقدمہ نہیں دائر کرتی کہ اس کو پھانسی کی سزا ملنی چاہئے یا عمر قید کی سزا