خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 7

خطبات طاہر جلد 16 7 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء اور وہ شرطیں اس کے بعد بیان ہوئی ہیں إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى مُجھ پر وحی کی جا رہی ہے۔اس نے بشریت کے باوجود ایک نئی روشنی مجھے عطا کر دی ہے۔اَنَّمَا الهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ اس توحید کے پیغام میں وہ خوش خبری ہے جس کی طرف میں متوجہ کر رہا ہوں کہ خدا ایک ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہر ایک سے الگ الگ سلوک کرے۔اَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ تم اندھے ہو، کانے ہو ، لولے ہو لنگڑے ہو مگر یا درکھنا تمہارا خدا ایک ہے۔وہی خدا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا خدا تھا، جس نے محمد رسول اللہ اللہ سے احسان کا سلوک کیا وہ کیسے تمہیں بے احسان چھوڑ دے گا مگر اس کے لئے بشری صلاحیتوں کے تفصیلی تقاضوں کی بحث نہیں اٹھائی۔فرمایا يُوحَى إِلَى اَنَّمَا الهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا دو شرطیں ہیں جو تم میں سے ہر ایک پوری کر سکتا ہے۔بشریت کی طاقتیں الگ الگ ہوں گی بے شک لیکن ان شرطوں میں قدر مشترک میں تم سب اسی طرح برابر ہو اور ہر ایک کو برابر یہ توفیق ہے کہ وہ انہیں پورا کر سکے۔عمل صالح کرو اور عمل صالح کی تعریف یہ فرما دی کہ ہر شخص جو اپنی توفیق کے مطابق کچھ کام کرتا ہے اور جہاں تک اس کو نیکی کا فہم ہے اس فہم کے مطابق نیکی پر عمل کرتا ہے وہ عمل صالح ہے۔اس لئے ایک اندھا بھی جو سوٹی کی مدد سے رستہ ٹولتے ہوئے چلتا ہے وہ عمل صالح بھی کر سکتا ہے عمل صالح کے بغیر بھی پھر سکتا ہے۔عمل صالح کا مطلب ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے وہ تمام احتیاطیں برتے کہ بے وجہ ٹکریں نہ مارتا پھرے۔ایک دفعہ کوئی اندھا لیمپ جلا کر رات کو پھر رہا تھا تو کسی عقل کے اندھے نے اس سے پوچھا کہ تم عجیب بے وقوف آدمی ہو تمہیں نظر آتا نہیں روشنی لئے پھرتے ہو۔اس نے کہا میں روشنی اپنے لئے نہیں تمہارے جیسے اندھوں کے لئے پھرتا ہوں ہم نہ ٹکر مار دو میرے سے۔تو یہ بھی ایک فراست ہے اور یہ اس کا عمل صالح تھا۔اس کے عمل صالح نے اس کے اندھے ہونے کے باوجود کیسا دیا روشن کر دیا جس سے اندھیری رات کا ایک حصہ جگمگا اٹھا۔تو ہر شخص صلى الله میں ایک عمل صالح کی صلاحیت خدا نے رکھی ہے۔پس عمل صالح کے حوالے سے جب رسول اللہ ﷺ کو خدا نے وحی فرمائی اور وحی میں یہ قدر مشترک ہے جو بشریت اور نیک لوگوں میں تفریق کرنے والی ہے یعنی بشریت برابر اور پھر بھی ہر بشر کو یہ توفیق مل جانا کہ خدا اس سے ہم کلام ہو جائے ، اس سے پیار