خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 869
خطبات طاہر جلد 15 869 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء ہوئے سے بہت سے نئے ممالک، نئے آنے والے بڑی ہمت کے ساتھ اور عزم کے ساتھ داخل ہو۔ہیں۔جو چندہ پورا نہیں دے سکتے بعضوں کی درخواستیں بھی آئی ہیں کہ ہم ابھی حال ہی میں احمدی ہوئے ہیں ہمیں نصف شرح سے اجازت دی جائے تو ان کے اندر یہ مالی نظام کی اہمیت پیدا ہوگئی ہے کہ اگر کم دینا ہے تو کم دیں مگر پوچھ کر کم دیں۔تو یہ جو دفاتر ہیں یہ اب سارے تو ہر جگہ پھیل نہیں سکتے جو وفات پاگئے وہ تو گزر گئے مگر نئے ممالک میں کم سے کم آخری دفتر کا اجراءلازم ہونا چاہئے اور اب آخری کا ہوگا کیونکہ اب جو کھانہ نیا کھلے گا اس میں وہی آئیں گے جو نئے آنے والے ہیں تو مجھے امید ہے ہر کوشش جماعت کی پھل لاتی ہے صرف توجہ کی بات ہے۔اب تو وہی حساب ہو گیا کہ درخت پھلوں سے لدا پڑا ہے ذرا سا ہلا دو بس اس سے زیادہ تم نے کوئی کام نہیں کرنا۔جو بھی تحریکیں میں نے کی ہیں ان کا یہی نتیجہ دیکھا ہے کہ جماعت نے صرف درخت ہی ہلائے ہیں اور پھل پہلے سے تیا ر خدا نے کئے ہوئے تھے وہ گرتے ہیں ان کو جھولیوں میں بھر لینا ان کو سمیٹنا،صاف ستھرا رکھنا ، ان کی حفاظت کرنا دشمنوں اور گندوں سے، یہ جماعت کا فریضہ رہ جاتا ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ تحریک جدید میں انشاء اللہ آئندہ سال اس پہلو سے میں آپ کو بڑی خوشخبریاں دے سکوں گا۔وعدہ جات کا جہاں تک تعلق ہے ایک زمانہ تھا جبکہ ہمیشہ وعدہ جات سے ادائیگیاں پیچھے رہ جایا کرتی تھیں اور بڑی مصیبت پڑی ہوتی تھی دفتر والوں کو ، کہ او ہو اتنی کمی رہ گئی ، اتنی کمی رہ گئی اور اب یہ حال ہے کہ وعدہ جات سے جماعت ہمیشہ آگے بڑھا کر دیتی ہے۔اب یہ عجیب جماعت ہے، یہ جماعت اس شان کی اس روح کی جماعت کوئی دنیا میں دکھائے تو سہی کہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کی دلیل مانگتے ہیں جب سورج چڑھ جائے اس کی دلیل کیا مانگو گے تم۔اس مادی دنیا میں،ساری دنیا میں کل عالم میں ایسی قربانی کرنے والی جماعت جو طوعی طور پر پیش کرے اور کوئی اس پر جبر نہ ہو اور جتنا وعدہ کرے اس سے آگے بڑھا دے کوئی صورتیں ہوں تو نکال کے تو دکھاؤ کہیں۔ایک دفعہ ایک Non-Ahmadi سے گفتگو ہو رہی تھی انہوں نے کہا جی باقی بھی تو قربانی دے رہے ہیں سارے دنیا کے ممالک شامل ہو رہے ہیں، آپ اپنی قربانی کا صرف ذکر کرتے ہیں۔میں نے کہا دکھاؤ تو سہی کون سی جماعتیں ہیں۔سارے ملازمین ہیں حکومت کا پیسہ کھانے والے تیل کا پیسہ کھانے والے اور زکوۃ چاٹنے والے۔وہ کہاں جماعت ہے جو ساری کی ساری