خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 868

خطبات طاہر جلد 15 868 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء دیتا ہے کہ جو اس دنیا کو چاہتے ہوئے دے گا اس کو دنیا ہی میں ملے گا اور جو زائد ملے گا وہ فضل کی باتیں ہیں اس قانون قرض کی باتیں نہیں جس کا مضمون میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔تو یہ یاد رکھیں جب دیں تو قرضہ حسنہ کے طور پر دیں، سود کے طور پر نہ دیں اور قرضہ حسنہ کے طور پر دیں گے تو یہ سب کچھ ہوگا جو میں بیان کر رہا ہوں۔پھر ناممکن ہے کہ یہ کچھ نہ ہوا اگر سود کے طور پر دیں گے تو ممکن ہے خدا زیادہ کر دے ممکن ہے سب کو رڈ ہی کر دے کہ گندا سودا ہے۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ کلیۂ رڈ فرما دیتا ہے۔آپ کے ہاتھ سے تو نکل گیا مگر پھر وہ اصل بھی واپس نہیں آئے گا کیونکہ جو فاسد سودے ہوں ان کی ادائیگی ضروری نہیں ہوا کرتی۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس روح کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے جماعت مالی قربانی میں آگے سے آگے بڑھتی چلی جائے گی۔اب میں اعدادوشمار کی دنیا میں اترتا ہوں ، سب سے پہلے تو یہ بات ہے کہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دفتر اول کے باسٹھ (62) سال پورے ہوئے اور تریسٹھویں (63) سال میں داخل ہو رہا ہے یعنی باسٹھ (62) سال پہلے تحریک جدید کا آغاز ہوا تھا اور آج بھی دفتر اول میں شامل لوگ زندہ موجود ہیں میں بھی ان میں سے ایک ہوں اللہ کے فضل سے اور بھی بہت سے ہیں اور دفتر اول ابھی تک جاری ہے اور جو فوت ہو گئے ان کی طرف سے جو زندہ ہیں انہوں نے ان کے کھاتوں کو زندہ کر دیا اس لئے اس پہلو سے تو یہ دفتر اب کبھی نہیں مرے گا ہمیشہ انشاء اللہ زندہ رہے گا۔اس کا 63 واں سال شروع ہو رہا ہے۔دفتر دوم جو بعد میں قائم کیا گیا اس کا باون واں (52) سال ہے یعنی دس (10) سال کے بعد پھر دفتر دوم کا آغاز ہوا یعنی پہلا رجسٹر بند اور نیا رجسٹر شروع ہو گیا۔پھر دفتر سوم کے بتیس (32) سال ہو چکے ہیں یعنی دس(10) کی بجائے ہیں (20) سال بعد ایک دفتر سوم کا آغاز ہوا۔پھر دفتر چہارم کے گیارہ (11) سال ہوئے ہیں یعنی یہ وہ دفتر جو میں نے شروع کیا تھا کہ پہلے کھاتے بند اور نئی نسلوں کی خاطر ایک اور دفتر کھولا تھا یہ سب اگلے سال میں داخل ہورہے ہیں اب۔تہتر (73) ممالک کی رپورٹس آئی ہیں جبکہ گزشتہ سال ان ممالک کی تعداد کم تھی اور امسال میں نے ہدایت کی ہے کہ اگلے سال کم سے کم سو (100) ممالک کو تحریک جدید میں ضرور شامل کرنا ہے۔اول تو یہ ٹارگٹ، یہ ہدف سامنے رکھنا چاہئے کہ اگر ایک سو چون (154) ممالک میں احمدیت ہے تو کیوں ایک سو چون (154) ممالک تحریک میں شامل نہ ہوں۔چندہ عام میں تو خدا کے فضل