خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 870 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 870

خطبات طاہر جلد 15 870 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء اپنے سارے بوجھ اپنی جان سے لگا کے اس طرح چلے جیسے ماں بچے کو جان سے لگا کر چلتی ہے اور بوجھ محسوس نہیں کرتی۔یہ جماعت دکھاؤ کہیں، جس میں ہر ایک حصہ لے رہا ہو اور یہ احساس ہو کہ ابھی کم لیا ہے اور توفیق ہو تو اور لیں اور جتنا لے پچھتائے نہیں بلکہ اور زیادہ مزہ آنا شروع ہو جائے۔جتنا دے اور بھی زیادہ دینے کو دل چاہے۔یہ تو الہی سلسلے ہیں۔انبیاء کی جماعتوں کے سوا یہ توفیق نہ کبھی دنیا میں کسی کو ہوئی ہے نہ ہو سکتی ہے، چیلنج ہے کر کے دکھا دو یہ۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی اور دکھائی نہیں دیتی تو یہ زندہ جماعت، یہ قربانی کرنے والی جماعت ہے جس کو دیکھو اور ایمان لے آؤ اس کے بغیر تمہارے لئے تمہاری شرافت کے لئے اور کوئی چارہ نہیں ہے، اتنی کھلی کھلی حقیقت ہے۔یہ جواب جب میں نے دیا تو سوال کرنے والا جو ایک بوسنین تھا وہ پوری طرح مطمئن ہو گیا۔اس نے کہا بالکل ٹھیک کہا ہے آپ نے ، ایسی ہمیں کوئی نہیں دکھائی دے رہی جگہ۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کا تو قصہ ہی اور ہے اور جونور کے وعدے ہیں وہ تو اس دنیا میں بھی پورے ہوں گے کچھ نہ کچھ لیکن اصل میں وہ آخرت میں پورے ہوں گے۔اگر پاکستانی روپے میں ڈھالا جائے نو کروڑ بائیس لاکھ کا وعدہ گزشتہ سال تھا اور وصولی خدا کے فضل سے پاکستانی روپوں میں نو کروڑ ساٹھ لاکھ ہوئی ہے، بائیس کی بجائے۔یہ اس سے بھی زیادہ ہوتی مگر پاکستانی روپے کی قیمت گر گئی ہے اس لئے وہ اعداد و شمار یہ خطرہ تھا کہ کم نہ نظر آئیں مگر بڑھایا خدا نے اتنا کہ اس کی گرتی ہوئی قیمت کے باوجود پھر بھی ابھی زیادہ ہے خدا کے فضل سے انٹرنیشنل کرنسی میں دیکھیں تو آپ کو فرق زیادہ نظر آئے گا۔وعدہ جات چودہ لاکھ چالیس ہزار سات سو پاؤنڈ تھے۔وصولی پندرہ لاکھ آٹھ ہزار تین سو پاؤنڈ ہوئی۔مگر گزشتہ سال کی وصولی کو دیکھیں تو پھر آپ کو اصل چھلانگ نظر آئے گی۔اس سے پہلے سال بارہ لاکھ چوبیس ہزار کی وصولی تھی اس سال پندرہ لاکھ کی وصولی ہوئی ہے تو یہ اتنا نمایاں فرق ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنی ذات میں ایک نشان ہے۔سال اکسٹھ (61) اور باسٹھ (62) کا موازنہ اگر آپ چاہتے ہیں پاؤنڈوں میں اور وصولی کا موازنہ، تو وہ یوں ہے کہ اکسٹھ (61) میں تیرہ لاکھ اکتیس ہزار پاؤنڈ کا وعدہ تھا۔باسٹھ (62) میں چودہ لاکھ چالیس ہزار سات سوسڑسٹھ کا وعدہ تھا گویا اضافہ وعدوں میں ایک لاکھ نو ہزار ایک سوسنتالیس پاؤنڈ کا ہوا۔وصولی کے لحاظ سے سال 95-1994 ء میں تیرہ لاکھ اکتیس ہزار کے وعدے کے