خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 974
خطبات طاہر جلد 15 974 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء ساتھ آتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ بعض صورتوں میں ایسا ضرور ہو گا کہ شیطان تمہیں تکلیف پہنچائے گا اور نرخ کہتے ہیں چھونے کو خواہ دل کا کچو کہ لیا جائے یا جسم کا، نیزے کی انی سے چھویا جائے یا زبان کی نوک سے دل کو زخم پہنچایا جائے دونوں صورتوں میں یہ نزع کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔پس جب تو ایسی باتیں کرے گا تو مقابل پر نہایت ہی بد تمیزی کی، دل کو تکلیف پہنچانے والی باتیں سننی پڑیں گی اور پھر جسمانی طور پر بھی ایذا رسانی کی کوشش کی جائے گی اس صورت میں فَاسْتَعِذْ بِاللہ کیونکہ اللہ کی خاطر تو نے یہ جہاد شروع کیا ہے پس اللہ کی پناہ مانگ اور اللہ کی پناہ میں آجا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس حوالے سے فرماتے ہیں۔یہ دراصل ایک قطعی وعدہ ہے آنحضور ﷺ کو کہ اس کے نتیجہ میں میں تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا کیوں کہ جو تکلیفیں ہیں ان کی چارہ گری بھی خدا فرمائے گا اور ان کے گزند سے محفوظ رکھنے کے انتظام بھی خدا تعالیٰ فرمائے گا۔پس اگر چہ ایک تکلیف پہنچتی تو ہے مگر اس کے مقابل پر خدا کی طرف سے اتنے پیار کا اظہار ہو جاتا ہے کہ گویا وہ تکلیف کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بار ہا نظم میں اور نثر میں پیش فرمایا ہے مثلاً: ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا ( در شین اُردو: 10) تو تیغ تیز سے کاٹا ہے تو غم اغیار کو کاٹا ہے یعنی ایسی جو اپنوں کے لئے پیار اور بھلائی کا موجب بن جائے اپنوں کے لئے مرہم کا کام دے یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلی بار اس طرح بیان فرمایا کہ اس کی اور کوئی مجھے مثال دکھائی نہیں دیتی کہ تیغ سے مرہم کا کام لیا۔ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز پیار کی نگاہیں تیغ تیز کیسے ہو گئیں؟ ے جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ اغم اغیار کا تو دل میں جو کچھ بھی میل آجاتی ہے لوگوں کے دکھوں سے، کوئی غم اغیار کا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے دل کے اندر، اس سب کو تیرے پیار کی نگاہیں کاٹ کے پھینک دیتی ہیں۔پس یہ وہ مضمون ہے فَاسْتَعِذْ بِاللہ کا جو آنحضرت ﷺ کے حق میں ایک قطعی وعدہ تھا اور حضرت مسیح موعود