خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 975 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 975

خطبات طاہر جلد 15 975 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء علیہ السلام نے یہی تشریح فرمائی ہے جو بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا ہے۔اِنَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ وہ تیرے حال کو جانتا بھی ہے اور سننے والا بھی ہے۔سننے والے کا ذکر پہلے فرمایا کہ جب تیرے دل سے کوئی ہوک اٹھے گی تو خدا ضرور اسے سنے گا تو خدا کی نگاہوں سے پردے میں نہیں ہے نہ اس کے علم سے باہر ہے اور علیم ہے تو ظاہر نہ بھی کرے تو خدا کو علم ہے کہ تیرے دل پر کیا گزرتی ہے۔یہ وہ نصیحت کی راہ کی مشکلات ہیں جن سے ہمیں خوب اچھی طرح آگاہ ہونا چاہئے اور جن سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد پھر اس میدان میں اس احتمال کو پیش نظر رکھ کر قدم رکھنا ہے۔یہ تکلیفیں تو راہ میں آئیں گی ، یہ کانٹے تو چھوئے جائیں گے مگر اس کے نتیجہ میں قرب الہی مانگو تو بہت بڑا فائدہ حاصل ہوگا۔پیغام کا حق ادا کر دیا اور اللہ کا قرب عطا ہو گیا اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت حاصل کی جاسکتی ہے یا اس سے بڑھ کر اس فعل کی اور کیا بہتر جزاء، یوں کہنا چاہئے تھا اس سے بہتر اور کس بہتر جزاء کی توقع کی جاسکتی ہے۔چھوٹا سا کام معمولی سی چوب اور رضائے باری تعالیٰ ایسی کہ تمہیں اپنی پناہ میں لے لے، اپنی گود میں اٹھا لے اور پھر جو زخم پہنچادل داری کر کر کے اس زخم کی تکلیف کو بے انتہا روحانی لذتوں میں تبدیل فرما دے۔- اس مضمون پر آنحضرت ﷺ کی احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کے اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے تو عفو کے لئے جس دل گردے کی اور حوصلے کی ضرورت ہے وہ تکلیف کو صبر سے برداشت کرنے سے پہلے ہوا کرتا ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ عضو کے بعد اور نصیحت کے بعد جو تکلیفیں پہنچیں گی انہیں برداشت کرو تو تم دل کے قوی اور مضبوط ہو۔آنحضرت ﷺ نے عضو سے پہلے دل کا قوی ہونا ایک شرط قرار دیا ہے اور یہی حقیقت ہے اور یہی گہری انسانی فطرت کا راز ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور یہ حدیث بخاری کتاب الادب (باب الحذر من الغضب ) سے لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا طاقتور پہلوان وہ شخص نہیں ہے جو دوسرے کو پچھاڑ دے۔طاقتور پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے اوپر قابور کھے۔پس غیر کی طرف سے ضرر کا تو ابھی سوال پیدا نہیں ہوا ابھی آپ کے اندرونی رد عمل کی بات ہو رہی ہے اور عفو اس حالت میں ممکن ہی نہیں کہ انسان اپنے نفس پر قابونہ پاسکے۔جسے اپنے غصے پر عبور نہیں ہے وہ