خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 964 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 964

خطبات طاہر جلد 15 964 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء کے طور پر بھی پیش فرمایا گیا ہے جو دراصل رحمۃ للعالمین کی ایک دوسری صورت ہے۔اب میں احادیث کے حوالے سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کے حوالے سے چند اور باتیں اسی مضمون سے تعلق رکھنے والی کھولتا ہوں۔مسند احمد سے یہ روایت لی گئی ہے۔حضرت معاذ بن انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وو سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے دیتا اسے بھی دے اور جو تجھے برا کہتا ہے اس سے تو درگزر کر (مسند احمد بن حنبل، مسند المكيين، حديث معاذ بن انس الجهني، حديث (1591) یعنی عفو کا مضمون ہے درگزر کرنے کے معنوں میں کہ برا کہتا ہے، بدلہ نہ لو اور برداشت کر جاؤ اور یہ برداشت کرنا عفو کی ، یہی انتہائی غصے کو برداشت کرنے کی پہلی منزل بنتا ہے اس کی توفیق عطا فرما تا ہے۔”جو تجھے نہیں دیتا اسے بھی دے یعنی اپنی عطا کو دوسروں سے لینے کے حوالے سے کبھی نہ باندھو چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو دوسری جگہ کھولا ہے۔لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (المدثر: 7) اس وجہ سے کبھی احسان نہ کرو کہ تم زیادہ حاصل کر لو۔بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مضمون اس طرح بے نفسی کا مضمون ہے کہ خدا سے بھی توقع نہ رکھو بلکہ پھینک دو چیز۔یہ غلط ہے کیونکہ تمنُنَّ کے بعد تَسْتَكْثِیر کی نہی ہے۔اللہ پر تو آپ احسان کر ہی نہیں سکتے ، ناممکن ہے۔تو اسی کی عطا کے تابع ہے اس کی عطا سے باہر جا کیسے سکتے ہیں اس لئے اس سے اور بھی مانگیں تو تب بھی آپ اس کی عطا کے نیچے رہیں گے۔پس جب اللہ فرماتا ہے کہ میری خاطر خرچ کرو گے تو تمہیں زیادہ ملے گا تو اس میں اگر کسی انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ میں خرچ کروں تا کہ اللہ مجھے زیادہ دے تو یہ بد خلقی نہیں ہے۔لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ سے اس کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔تَمْنُنْ اور تَسْتَكْثِرُ سے اگر کوئی اس کو ٹکراؤ دکھائی دے سکتا ہے تو صرف ایک موقع پر۔ایک انسان کسی پر احسان کرے اور اس وجہ سے صرف کرے کہ اللہ اسے زیادہ دے وہی چیز ، تو یہ اعلیٰ درجہ کی نیکی نہیں رہے گی کیونکہ پھر جب خدا اس کو دنیا میں کچھ دے دے گا تو اس کا حساب پورا ہو گیا اس سے بھی زیادہ مل گیا اور بات ختم ہو گئی۔تو اگر انسان اس وجہ سے خرچ کرے کہ رضائے باری تعالیٰ نصیب ہو تو وہی محسن والا مضمون و الله يُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ یہ اس پر صادق آئے گا تو اگر چہ ظاہری