خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 963
خطبات طاہر جلد 15 963 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء کا مضمون سمجھ آ ہی نہیں سکتا اس لئے ان سے سیکھو، ان کے پیچھے چلو پھر تم پر ہر مضمون روشن ہو جائے گا خواہ وہ تقویٰ کا ہو، رحمت کا ہو اور بنی نوع انسان سے تعلقات کا مضمون ہو یعنی اس مضمون کو جس دائرے پر پھیلاؤ گے تختی کا مضمون ہو، شفقت اور رحمت کا نرمی کا مضمون ہو ہر مضمون آنحضرت ﷺ کے حوالے سے انسان پر روشن ہوتا چلا جائے گا۔وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اب متقین سے جو بات شروع ہوئی ہے وہ محسنین پر جا پہنچی ہے۔متقی میں غلط باتوں سے بچنے کا مضمون زیادہ پایا جاتا ہے یعنی ایک شخص جس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے یا جو خود دوسرے سے نقصان نہ اٹھائے۔محسن کا مطلب یہ ہے کہ وہ احسان کرتا چلا جاتا ہے ہر طرف۔یعنی نقصان تو در کنار اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچ سکتا مگر محض یہی اس کا تشخص نہیں ہے وہ ایک محسن کے طور پر ابھرتا ہے اور ہر طرف احسان پھیلاتا چلا جاتا ہے اور سراء اور ضراء والے مضمون نے اس احسان والے مضمون کو پہلے ہی کھولا تھا مگر وَ اللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ نے اس کو ایک اور عظمت بخش دی۔فرمایا تم کرو گے جنت کی خاطر، یہ بھی ایک چیز ہے مگر جو اعلیٰ درجے کے مومن ہیں وہ اللہ کی محبت کی خاطر ایسا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہمیں تو نیکیوں کا مزہ ہی اس بات میں آتا ہے کہ اللہ کی محبت ملے۔فرماتے ہیں اگر اللہ کی محبت کا چسکا پڑ جائے تو نیکیوں کی اگر یہ سزا ہوتی کہ اللہ کی محبت تو ملے گی لیکن جہنم کی تکلیفیں بھی ہوں گی تو ہم خوشی سے جہنم قبول کر لیتے۔پس یہ وہ مضمون ہے جو اپنے معراج کو پہنچایا گیا ہے یہاں۔متقین سے بات شروع ہوئی، حقوق کی ادائیگی سے بات شروع ہوئی، حقوق تلف نہ کرنے کی بات شروع ہوئی ، باوجود تکلیف اٹھانے کے لوگوں پر احسان کی بات شروع ہوئی، یہ سب تقویٰ کی باتیں ہیں یعنی تقویٰ سے پھوٹتی ہیں مگر اس میں حوالہ صرف یہ ہے کہ ہمیں جنت ملے۔یعنی تقوی کی ترقی یافتہ حالتیں ہی احسان ہیں دراصل ، مگر حوالہ جنت کا تھا۔تم چاہتے ہو کہ وسیع جنت مل جائے ، ساری کائنات پر پھیلی ہوئی تو ، یہ کام کرنا۔مگر اگر تم آنحضرت ﷺ کی غلامی میں عفو کے اور احسان کے اور برمحل غصے کے اور برمحل سزا کے مضامین سیکھ لو گے اور نیت یہ ہوگی کہ اس سے اللہ کی محبت نصیب ہو تو پھر تم محسن بن جانا یعنی ہمیشہ تمہاری طرف سے لوگوں کو احسان ہی پہنچے تب یاد رکھنا کہ اللہ حسین سے محبت کرتا ہے تو یہاں حضور اکرم ﷺ کو ایک محسن اعظم