خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 965 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 965

خطبات طاہر جلد 15 965 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء طور پر تو لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ کا مضمون یعنی احسان نہ کرو، کسی کو ممنون نہ کیا کرو اس نیت سے کہ تم زیادہ لو اس کا پہلا قدم یہ ہے کہ جب تم بنی نوع انسان میں کسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، کچھ اسے دو تو ہرگز اس سے زیادہ لینے کی کوئی بھی خواہش تمہارے دل میں نہ ہو۔نمبر دو، اگر ہو تو اللہ سے لینے کی خواہش ہو کیوں کہ وہ تمہارے زیرا احسان نہیں آسکتا ، من کے نتیجہ میں۔من تم نے کسی اور یہ کی ہے، اللہ سے لے رہے ہو یہ جائز ہے، گناہ نہیں ہے مگر اگر نظر مادے پر ہی ٹھہر گئی اور مادی جزا ہی تمہارا مقصود بن گئی تو اتنا ہی ملے گا۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے جو اللہ سے یہ کہتا ہے کہ مجھے اس دنیا کی حسنہ عطا کرے اسے دنیا کی حسنہ ہی ملتی ہے پھر ، آخرت کی حسنہ نہیں ملتی اور مومنوں کو یہ سکھا یار بنا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقره: 202) تو کبھی بھی اپنے احسان کو محض مادی فوائد کی توقع سے خواہ وہ خدا سے ہوں باندھا نہ کرو بلکہ اس کو ان سے وابستہ نہ ہی کرو تو بہتر ہے کیونکہ اگر بے تعلق کر لو گے مادی فوائد سے چاہے وہ خدا کی طرف سے عطا ہوں تو پھر تمہاری نظر زیادہ بلند ہو جائے گی اور مادی فوائد تو اللہ نے دینے ہی دینے ہیں اس لئے جو چیز بن مانگے مل جاتی ہے خواہ مخواہ اس میں مانگنے کی ضرورت کیا ہے اس چیز کو مطمع نظر بنانے کی کیا ضرورت ہے جو بغیر مطمع نظر بنائے اللہ نے اپنی طرف سے دے ہی دینی ہے۔تو اسی لئے جب مومن کسی پر احسان کرتے ہیں اور وہ شکر یہ ادا کرتا ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ ان کو جواب میں کہتے ہیں کہ ہمارا شکر یہ ادا نہ کرو۔لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدھر: (10) ہم تم سے نہ جزاء چاہتے ہیں نہ شکر یہ چاہتے ہیں کیونکہ یہ ہم نے جو کچھ کیا تھا یہ جزاء کے تصور سے کیا ہی نہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے تصور سے کیا ہے۔پس رضائے باری تعالیٰ اگر مقصود ہے تو شکریہ تو رکنے ہی نہیں ہیں، پھر بھی آئیں گے۔شکریہ تو کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ بنی نوع انسان کو ہدایت کر دی ہے کہ تم شکریہ ادا کیا کرو۔اس لئے شکریہ کی مناہی نہیں ہے بلکہ شکر یہ تو سکھایا گیا ہے، قبول کرنے کی مناہی ہے کیونکہ جو شکریہ قبول کرتا ہے اس کا نفس موٹا ہو جاتا ہے، اس کی نیت کی پاکیزگی میں فرق آ جاتا ہے اور اسے شکریوں کے ہی چسکے پڑ جاتے ہیں، انتظار کرتا رہتا ہے کہ میں نے یہ کیا تھا ابھی تک شکریہ کا خط نہیں آیا۔ابھی تک اسے قبول نہیں کیا گیا اور یہ مجھے نہیں پتا چلا کہ