خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 957
خطبات طاہر جلد 15 957 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء اب آنحضرت ﷺ کو یہ دو دور نصیب ہوئے اور ساری زندگی ہوتے رہے اور پھر بھی آپ کے خرچ میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آئی اور سر آء میں خرچ کرنا لوگ سمجھتے ہیں آسان ہے حالانکہ یہ بہت سادگی ہے انسان کی۔وہی سمجھ سکتا ہے آسان ہے جو انسانی فطرت کے رازوں سے واقف نہیں ہے۔انسانی فطرت میں جو حرص رکھ دی گئی ہے اس حرص کے نتیجے میں بسا اوقات دولت بڑھنے سے کنجوسی بڑھتی چلی جاتی ہے۔جتنی دولت بڑھتی ہے اتنا ہی انسان خسیس ہوتا چلا جاتا ہے اور روز مرہ کے معمولی معمولی اخراجات جو غریبوں کی حالت سدھار سکتے ہیں ان سے بھی غافل ہو جاتا ہے اور اپنی خود غرضی کا ایک قلعہ تعمیر کرتا ہے جس کے اندر وہ سمٹ کے باقی دنیا سے الگ ہو جاتا ہے۔تو اس لئے سر آء کے اوپر انسان یہ تعجب کرے کہ خوشحال تو خرچ کر ہی دیتے ہیں یہ غلط ہے۔جو مومن خوشحال ہیں ، ان کی زندگی پر نہ خوش حالی فرق ڈالتی ہے نہ تنگی فرق ڈالتی ہے۔جو اطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُول کا حق ادا کرنے والے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرح مادی قربانیوں میں بھی رحمت کا مظہر اس طرح بنتے ہیں کہ اگر ان کو کم ملا ہو تو پھر بھی اس سے وہ اپنے بھائی کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ بلندی سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے ہر انسان جو تنگ دست ہے، بسا اوقات اس سے بھی تنگ دست دنیا میں ہوتے ہیں۔اگر وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا سچا غلام ہے تو اس کو نظر رکھنی چاہئے اور اپنے سے تنگ ہاتھ والوں کو، زیاد تا جوں کو تلاش کر کے ان کی جستجو میں رہتے ہوئے ان پر خرچ کرے۔لیکن صرف یہی نہیں بلکہ بعض دفعہ انسان اپنے نفس کی وجہ سے زیادہ تنگ دست ہو جاتا ہے اور ایک شخص اپنے نفس کی وجہ سے غنی رہتا ہے تو حضور اکرم ﷺ کے تعلق میں یہ بہترین معنی ہے جو صادق آئے گا کیونکہ ہر شخص کی اپنی کیفیت ہے اس کی نسبت سے ، اس پر معنی کا اطلاق کیا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کا تنگ دستی میں خرچ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو جب اپنے سے غریب تر ملتا تھا تو اس پر ہی صرف کرتے تھے بلکہ تنگ دستی میں آپ کو غنی نصیب تھا اور تنگ دستی میں غنی جو ہے وہ انسان کو امیر کر دیتا ہے۔الغنى غنى النفس“ (صحیح بخاری ، کتاب الرقاق، باب الغنى غنى النفس)