خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 956 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 956

خطبات طاہر جلد 15 956 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء نے رحمت کا واقعہ حق ادا کر دیا۔جب کر دیا تو اطاعت کرو گے تو تم رحمت سے حصہ پاؤ گے۔اطاعت نہیں کرو گے تو اسی حد تک رحمت سے محروم کر دیئے جاؤ گے اور جب کرو گے تو پھر کوئی اس کی انتہا نہیں ہے رحمت کی عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْاَرْضُ ساری کائنات پر جو جنت وسیع ہے وہ جنت تمہارا انعام ہوگی۔پس اس دنیا کی زندگی میں آنحضرت مے کی رحمت کو آگے دنیا میں جاری کرنے کے لئے اگر ہم ذریعہ بن جائیں تو یہ ہے اَطِيْعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ کا معنی اس تعلق میں ، یعنی حضرت رسول اللہ ﷺ کی رحمت براہ راست خدا تعالیٰ کی طرف سے کئی صورتوں میں نازل ہوتی ہے جو رحمانیت کی جلوہ گری ہے۔مگر رسول اللہ ﷺ کے کوثر سے یہ رحمت تو تب ہی جاری ہوگی اگر ہم پیالے بھر بھر کے آگے لوگوں کو پلائیں گے اور یہ پلانے والے ہیں جو دراصل اس اطاعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔پس اطاعت کے مضامین بہت سے ہیں اور مختلف قسموں میں پھیلے پڑے ہیں مگر جہاں عنوان لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ باندھا گیا یہاں اطاعت بہ تعلق رحمت ہے اور اطاعت بہ تعلق رحمت اسی طرح ہوگی کہ اگر ہم آنحضرت ﷺ کے کوثر سے تمام دنیا کو رحمت کے پیالے بھر بھر کے سیراب کرنے کی کوشش کریں۔پس دیکھئے وہ مضمون جو گھر کی چار دیواری سے شروع ہوا تھا اب رسول اللہ ﷺ کے تعلق میں آکر کس طرح اچھل کر صرف شہروں کی حدوں سے ہی نہیں نکلا بلکہ تمام دنیا پہ محیط ہو گیا ہے تمام بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے لگا ہے اس لئے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے اور تقویٰ تو لازماً ہر چیز میں ، ہر فعل میں مضمر ہے۔أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ کہہ کر یہ واضح کر دیا گیا کہ رحم دراصل متقیوں پر ہی کیا جائے گا اور رحمت سے حصہ پانا متقیوں کا ہی نصیب ہے تو یہ سارے مضامین آپس میں لپیٹ کر گویا ایک گلدستہ کی صورت میں اکٹھے کر دیئے گئے۔اب اس کی تفصیل کیا ہے۔چونکہ اطاعت کا تعلق رحمت سے تھا اس لئے اس رحمت کی تفصیل اب تیسری آیت میں مذکور ہے۔الَّذِینَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَاءِ وَالضَّرَّاء یہ رحمت مادی بھی ہے اور مادی رحمت بھی وہ رنگ رکھتی ہے جو آنحضرت ﷺ کی رحمت کے رنگ تھے يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وہ نہایت خوشحالی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگ دستی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں۔صل الله