خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 946
خطبات طاہر جلد 15 946 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء بقاء ہے وہ دشمن کے طور پر باقی رہے گی اور ہمیشہ اس کو بغض اور عناد سے یادر کھے گی۔بعض دفعہ بعض جاہل مرد اتنا زیادہ بختی سے کام لیتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے مجھے لکھتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ہم دعا کیسے کریں گے کہ دل سے جھوٹ تو نہیں اٹھ سکتا ہم اس مصیبت میں مبتلا ہیں۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے یہ کرو اور وہ کرو، ان سے زیادہ سے زیادہ منہ بند تو کر لیں گے کہ اف نہیں کہنا مگر پھر ان کے لئے دعا دل سے کیسے نکلے گی اور جس لکھنے والے کی میں بات کر رہا ہوں وہ بالکل سچائی کے ساتھ لکھ رہا تھا۔اس نے جس طرح وضاحت کی بالکل عیاں تھا اس میں کوئی بناوٹ نہیں وہ بے چارہ سخت مظلوم اور مجبور تھا اور دل چاہتا تھا کہ میں بھی نیک لوگوں کی طرح اپنے ماں باپ کے لئے دعائیں کروں لیکن اس نے کہا اس نے تو گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ماں پر سختی ، بیٹیوں پر سختی ، ہم پر سختی اور ایک دشمن کے طور پر ہمارے گھر میں بس رہا ہے وہ شخص اور کوئی بھی ایسا ذریعہ باقی نہیں رہنے دیا کہ ہم اس کے لئے دل میں کسی کونے میں محبت محسوس کریں۔تو اپنی اولا د کو عدو بنانا باپ کا کام ہے، یہ قرآن کریم نے کھول دیا ہے مضمون کہ تمہاری بیویوں میں سے تمہاری اولاد میں سے تمہارے دشمن ہیں۔مگر کس کے دشمن ہیں ”جو عفو سے کام نہیں لیتا۔جو ترتیب یہ ہے عفو سے کام نہیں لیتا، صفح سے کام نہیں لیتا، میں اس کا معنی پہلے بیان کر چکا ہوں اور مغفرت سے کام نہیں لیتا اس کی اولا د اس کی دشمن ہو جائے گی اور پھر خدا کا تعلق بھی کاٹا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غفور رحیم ہے۔جو ان باتوں میں عفو درگزر وغیرہ سے کام نہیں لیتا وہ رحیم نہیں ہو سکتا اور جو مغفرت نہیں کرتا اس کا غفور سے تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔تو دین و دنیا دونوں ہی ہاتھ سے نکل جائیں گے اگر انسان اس بد تمیزی کی روش پر اصرار کرے اور اولادکو اچھا بنانا اس کا فرض ہے کیونکہ اگر وہ اس کی بد اخلاقی کے نتیجہ میں بری بن کے دنیا میں قائم ہو گی تو صرف یہ سوال نہیں ہے کہ اس سے کائی جائے گی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ لوگ آئندہ دوسروں کو جو اپنی بدخلقی کا نشانہ بنائیں گے کیونکہ ہر بچے کا ایک ہی طرح رد عمل نہیں ہوتا۔بعض تو وہ ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا تکلیف محسوس کرتے ہیں، بے قراری محسوس کرتے ہیں، دعاؤں کے لئے خط لکھتے ہیں کہ خدا کے لئے ہمیں کچھ بتائیں ہم کیا کریں ہم اللہ کی نظر میں بد بنا نہیں چاہتے مگر بے اختیاری کا عالم ہو گیا ہے لیکن ایسے کم ہوتے ہیں۔اکثر وہ ہیں جو اس رنگ میں رنگیں ہو جاتے ہیں پھر ، باپ گھر سے نکلا تو ایک بچہ دوسرے