خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 942 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 942

خطبات طاہر جلد 15 942 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء ایسا نہ ہو کہ رشتہ و دا د ہی قطع ہو جائے کچھ حوصلہ دکھاؤ پھر اور واپسی کے سفر کے لئے مغفرت سے کام لو۔تب ہی خدا تعالیٰ جب بعض اپنے بندوں کا پیار سے ذکر کرتا ہے کہ ان سے یہ خطا ہوئی یہ خطا ہوئی تو پھر مغفرت کا مضمون ہمیشہ اس کے بعد آتا ہے اور مغفرت کے مضمون سے پہلے جب خدا کا دل مائل ہوتا ہے، دل چاہتا ہے کہ اس سے میں پیار کروں تو اس کو خود دعائیں سکھاتا ہے اور خود اس کو طریق بتاتا ہے کہ یہ باتیں کرو پھر مجھے تم بہت اچھے لگو گے پھر میں تمہاری طرف لوٹ آؤں گا اور اس کے لئے کوئی بہانہ ہونا چاہئے ورنہ بعض لوگ ایسے بھی میں نے دیکھے ہیں کہ وہ ناراض ہوئے واپسی کا رستہ ہی یاد آتا نہیں ہے ، دل چاہے بھی تو آپس میں ایسی اجنبیت پیدا ہو جاتی ہے کہتا ہے دوبارہ ہم کس منہ سے بات کریں گے اور اس کے نتیجے میں لمبے عرصے تک بعض دفعہ جدائیاں پڑ جاتی ہیں۔میرے علم میں جب ایسے لوگ آتے ہیں تو میں سمجھاتا ہوں کہ اپنی انا کو توڑو یہ جھوٹی انا ہے تم سمجھتے ہو کہ اگر میں نے اب کہا تو میری خفت ہو جائے گی تو واپسی کے رستے ہر شخص کی اپنی شان اور اپنی حیثیت کے مطابق ہوا کرتے ہیں۔اللہ نے واپسی کا رستہ اختیار کیا ہے اور قرآن نے کھول کر بیان فرمایا ہے۔اس کو بھی تو واپسی چاہئے ایک بندے سے ناراض ہوا ہوا ہے، دوسری طرف منہ کیا ہوا ہے بندے کو محسوس ہو گیا ہے کہ اب مجھے چھوڑ رہا ہے کچھ ، وہ التفات نہیں رہا ، وہ دعاؤں میں مقبولیت نہیں رہی۔خدا کے اظہار کے بے شمار طریقے ہیں جو بندے کو محسوس ہو جاتا ہے کہ اب کچھ معاملہ آگے بڑھ گیا ہے پھر اللہ واپس آتا ہے، بندہ تو نہیں پھر اس کو پکڑ سکتا۔اللہ تعالیٰ تو بندے کی پکڑ ، پہنچ سے کہیں بالا اور اس کی رسائی سے بہت اونچا ہے تو یہ اس کی رحمت کا طریق ہے، خود جھکتا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے اسے پھر سکھایا ایسی ایسی باتیں کرو وہ ہمیں بڑی اچھی لگیں گی، پھر میں تجھے معاف کروں گا تو معافی کے بھی کیسے پیارے رنگ ہیں اللہ کے، خود ہی معافی کے ڈھنگ سکھائے اور پھر معاف کر دیا اور گویا واپسی کا رستہ قائم ہو گیا۔بندوں میں بھی کچھ واپسی کے رستے ہوا کرتے ہیں اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ بھی وہ رستے نکالا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب وہ آپ کے اوپر ایک بہت