خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 941
خطبات طاہر جلد 15 941 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء بچے جب ایسی حرکت کریں جو نا پسندیدہ ہے اور کرتے رہیں، آپ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ان معنوں میں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری طرف وہ پیار اور شفقت کی توجہ نہیں رہی اور یہ چیز اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اسے انگریزی میں Reprove کہتے ہیں یعنی ایسے رنگ میں سرزنش کرنا کہ جو سزا کے معنی تو نہیں رکھتی لیکن لفظوں میں یا طرز سے وہ غلطی کرنے والے کو احساس دلا دیتی ہے کہ ہم سے کچھ ایسی بات ہوئی ہے کہ اب ہم ویسے پیار کے مستحق نہیں رہے توجہ پھر گئی ہے۔تو یہ بھی ایک بہت ہی اہم اصلاح کا طریق ہے جس کو قرآن کریم نے میاں بیوی کے تعلق ہی میں بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی عورت کپت کرنے والی ہو ، لفظ پنجابی ہے لیکن ہے بڑا ز بر دست اس لئے میں استعمال کرتا ہوں اس کو بے دھڑک ، فرمایا کہ فساد برپا کر دے بات بات پر بد تمیزی کرنے والی آگے سے اٹھ کھڑی ہونے والی تو فرمایا اس کو نصیحت کرو اور پھر اسے کچھ عرصے کے لئے علیحدہ اپنے بستر میں چھوڑ دو اب وہ علیحدہ چھوڑنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ سمجھے کہ میرا کچھ اس نے دیکھا ہی نہیں، میر انقص اس کو پتا ہی نہیں چلا بلکہ یہ اعراض ایسا ہے جس سے بڑی وضاحت کے ساتھ جرم کرنے والے اور خطا کرنے والے کو محسوس ہو جاتا ہے کہ اب معاملہ آگے بڑھ گیا ہے، اب اس کا تعلق اثر انداز ہو گیا ہے۔اب اگر میں ایسی باتیں پھر کروں گی یا کروں گا تو مجھے اس سے وہ شفقت نصیب نہیں ہو سکتی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔تو یہ عفو کے بعد صفح ہے۔چنانچہ صفح میں یہ بھی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ ایک انسان ناراضگی کے اظہار پر اپنا گھر چھوڑ کر باہر نکل جائے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کوئی بری بات آپ دیکھتے ہیں تو اس جگہ کو چھوڑ کر ہٹ جاتے ہیں صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ ناراضگی کا اظہار ہے گوشتی اس میں نہیں پائی جاتی۔چنانچہ اگر کوئی بد تمیزی کی باتیں کرتا ہے دین کے متعلق تو وہاں دراصل صفح کا معنی ہی ہے جو مضمون بیان ہوا ہے ان کو چھوڑ کر الگ ہو جاؤ یعنی محسوس ہو ان کو کہ ہماری یہ حرکت اس شخص کو پسند نہیں آئی اس کے بعد بھی اگر ایسی غلطی سرزد ہو جاتی ہے جو قابلِ سرزنش ہے تو پھر مغفرت کا خانہ کھلا رہ جاتا ہے اور بعض باتوں میں اظہار ناراضگی کے بعد بھی مغفرت ہوتی ہے اور ان معنوں میں صفح کے بعد مغفرت کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی ناراضگی کو پھر اتنا لمبانہ کر دور تعلق ٹوٹ ہی جائے،