خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 922
خطبات طاہر جلد 15 922 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء ہیں۔ایک چیز ہے جس کی پیاس دنیا میں بڑھتی چلی جارہی ہے۔پس آج اخلاق حسنہ سے آپ بڑے بڑے علماء اور اہل علم و فضل کے منہ بند نہیں کر سکتے مگر ان کے کردار تبدیل کر سکتے ہیں کیونکہ اخلاق حسنہ میں ایک حیرت انگیز انقلابی طاقت ہوا کرتی ہے۔وہ لوگ جو اخلاق حسنہ سے آراستہ ہو کر دنیا میں پھرتے ہیں وہ اس سے بہت زیادہ روشن ہوتے ہیں جیسے جگنو کی دم چمکتی ہے۔اندھیری رات میں جگنو کی دم بھی تو چپکا کرتی ہے مگر چھوٹی سی روشنی ہے جو دوسرے جگنوؤں کو اس کی طرف کھینچ لاتی ہے کچھ کیڑے مکوڑے ان سے راہ پا جاتے ہیں مگر مومن کا نور تو اس کے آگے بھاگتا ہے اس کے دائیں طرف آگے بڑھتا ہے اور مومن کا نور دور دور تک لوگوں کے لئے ماحول کو روشن کر دیتا ہے۔یہ نور اخلاق فاضلہ کا نور ہے، اخلاق حسنہ کا نور ہے، حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کو اپنانے کا نور ہے اس کو اپنی عادات میں داخل کر لیں اس نور سے آراستہ ہو جائیں تو آپ از خود چمکنے لگیں گے۔آپ کی غربت، آپ کے پھٹے پرانے کپڑے، آپ کی سادگی آپ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ چیزیں ہیں جو اللہ کے نور کو روکا نہیں کرتیں بلکہ بسا اوقات بڑھانے کا موجب بن جاتی ہیں۔کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک غریب انسان جو سادہ پھٹے ہوئے کپڑوں میں ہو اس کا جسم مجسم نور بن جاتا ہے اور اس کا نور خدا کے فضل اور رحمت کو اپنی طرف اس طاقت کے ساتھ کھینچتا ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ اللہ کا فضل اور رحمت اس پر اس حیرت انگیز شفقت کے ساتھ برستے ہیں کہ وہ شخص جو پھٹے پرانے سادہ کپڑوں میں ملبوس ہو بسا اوقات اس کی باتیں خدا کی باتیں بن جاتی ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: " رب اشعث اغبر“ خبر دار ایسے بھی غریب ہیں پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس، پراگندہ بال ان کے سروں پر خاک پڑی ہوتی ہے۔”لو اقسم على الله لا بره (صحیح مسلم كتاب الجنة و الصفة نعيمها وأهلها ، باب النار يدخل الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء ) اگر وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ایسا ضرور ہو گا تو ضرور ایسا ہو کر رہتا ہے۔یہ وہ نورانی وجود