خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 923
خطبات طاہر جلد 15 923 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء ہیں جن کی خاک، جن کے کپڑوں کی بدحالی، جن کے سر کے بالوں کا بکھرا ہوا ہونا اور ان میں خاک پڑے ہونا ان کے نور کی طاقت کو روک نہیں سکتے کیونکہ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ایسے غریب اور فقیر لوگ جب کہہ دیتے ہیں کہ خدا کی قسم یہ یونہی ہوگا تو ویسا ہی ہوتا ہے کیونکہ اللہ کی تقدیر ان کی آواز کے ساتھ چلتی ہے۔یہ وہ تبدیلی کرنے والے لوگ ہیں جو دنیا میں انقلاب برپا کیا کرتے ہیں۔نہ اچھے کپڑے آپ کے کام آئیں گے، نہ خوب صورت گھر ، نہ اعلیٰ درجے کی موٹریں ان پہلوؤں سے تو دنیا آپ سے بہت زیادہ آگے نکل چکی ہے۔ایک ایک ایسا دنیا میں امیر آدمی ہے کہ جس کی دولت تمام دنیا کی جماعت کی دولت کے برابر یا اس سے بھی شاید بڑھ کر ہو تو روپے پیسے میں ، ظاہری چمک دمک میں، اپنے کپڑوں کے حسن میں، اپنے مکانوں کی آرائش میں آپ اگر فخر کرتے ہیں تو ایک بے کار فخر ہے ان چیزوں میں کوئی طاقت نہیں، کوئی ان کو دیکھ کر آپ کے پیچھے نہیں چلے گا۔مگر غربت میں خدا ترسی، غربت میں خدا کے اخلاق کو اپنانا ، اس کی صفات حسنہ کو اپنے وجود میں جاری کر لینا صرف یہ ایک طاقت ہے جو جماعت احمدیہ کو نصیب ہو رہی ہے اور بڑھ رہی ہے اور اسی کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں۔اس طاقت کی پرورش کریں۔اسے اور بڑھائیں۔جتنا یہ اخلاق حسنہ کی طاقت اونچی ہوگی اتنا ہی جماعت احمدیہ کی سر بلندی ہوگی۔اتنا ہی گردو پیش کے بڑے بڑے سرکش لوگ بھی آپ کے اخلاق حسنہ کی طاقت کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوتے چلے جائیں گے اور اس بات کی گواہی ہر طرف سے مل رہی ہے کہ یہی ہوتا ہے اور یہی ہو رہا ہے اور یہی ہو گا۔بسا اوقات آنے والے جو بیعت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کس چیز نے آپ کو آمادہ کیا تو کسی احمدی کا نام لیتے ہیں یا اس کے ساتھ آئے ہوں تو اشارہ کرتے ہیں اس کے خلق حسن نے ہمیں آمادہ کیا اور نہ دلیل کی بات نہیں تھی۔یہ ہم میں رہتے ہوئے اجنبی تھا ہمارے ماحول میں ایک مختلف قسم کی چیز تھی جس نے توجہ کو کھینچا ہے اور اس کے اخلاق نے ہمارے دلوں میں یقین پیدا کیا یعنی اپنے متعلق کہتا ہے میرے دل میں یقین پیدا کیا کہ یہ غلط انسان نہیں ہے یہ مختلف اور اجنبی اور دلکش وجود ہے اور جب اس ماحول میں اس رجحان کے ساتھ اس لٹریچر کا مطالعہ کیا جو اس احمدی نے دیا تو دل تو پہلے ہی آمادہ تھادل کے دروازے تو پہلے ہی کھول دیئے گئے تھے اس نے ہر بات پر آمنا و صدقنا کہا کیونکہ جب اس شخص سے پیار ہو جائے جس کے اخلاص متاثر کرتے ہیں تو اس کی باتوں کے خلاف دل میں