خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 921
خطبات طاہر جلد 15 921 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء واپس اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملنے والے ہیں۔کئی صحابہ تھے جن کا ذہن اس طرف گیا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے یہ ہمارے رسول ﷺ کی جدائی کا خطبہ ہے شاید اس کے بعد ہمیں آپ کو دیکھنا نصیب نہ ہو۔چنانچہ اگلے حج سے پہلے پہلے اس خطبہ وداع کے بعد آپ رفیق اعلیٰ سے جاملے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ہمیں یہ راز سمجھائے اور خوب کھول کھول کر ہمارے سامنے یہ باتیں بیان فرمائیں اور سب سے اہم اور قیمتی راز یہ ہمیں بتایا کہ یہ سب کچھ جو عمل کی طاقت ہے اچھی باتیں سنا اور پھر ان پر عمل کرنا یہ اللہ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس لئے جتنا چاہو تم زور مارو، جتنا چاہوں میں تمہیں سمجھاؤں میں تم پر یہ بات خوب کھول دینا چاہتا ہوں کہ توفیق اسی کو ملے گی جس پر خدا کا فضل نازل ہوگا اور تو فیق آسمان ہی سے اترا کرتی ہے۔اب لمبا عرصہ ہو گیا میں جماعت احمدیہ کو اخلاق حسنہ سے متعلق اپنے خطبات میں نصیحت کرتا ہوں۔میں بتاتا ہوں کہ کس طرح ہمارا سفر گھروں سے شروع ہوگا۔جب تک ہمارے گھروں میں اخلاق حسنہ کے نمونے جاری نہ ہوں، جب تک خاوند اور بیوی کے درمیان، باپ اور بیٹی اور باپ اور بیٹوں کے درمیان، ماں اور بیٹیوں اور ماں اور بیٹوں کے درمیان ایک جنت کا سا معاشرہ قائم نہ ہو اور اخلاق حسنہ کے پاک نمونے گھروں میں جاری نہ ہوں اس وقت تک یہ دعویٰ کہ ہم دنیا کو تبدیل کر دیں گے محض ایک جنت الحمقاء میں بسنے والی بات ہے یعنی احمق بھی تو ایک جنت بنا لیا کرتے ہیں وہ ان جنتوں میں جانتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ جنتیں اور ہیں جن میں ان لوگوں کی رسائی ہوگی جو صاحب عقل ہیں احمق کو وہاں تک کوئی رسائی نہیں۔پس یا درکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی طرح دراست کے حق ادا کئے اور ہمیں خوب کھول کھول کے سمجھا دیا۔چونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس دور کا انقلاب اخلاق حسنہ سے وابستہ ہے کیونکہ مجھے کامل یقین ہے کہ دنیا کو آج سب سے زیادہ اخلاق کی پیاس ہے۔دلائل کی دنیا میں تو ہر انسان یہ طاقت ہی نہیں رکھتا کہ بڑے بڑے اہل علم اور اہل فضل پر غالب آ سکے۔اگر وہ سچا بھی ہو تو دنیا بہت چالاک ہے اور دنیا ظاہری علوم میں اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ایک عام سادہ لوح انسان کے لئے اور ایک مخلص احمدی کے لئے جس نے بات بھی دنیا کے برعکس کرنی ہو کیسے ممکن ہے کہ وہ ان لوگوں کو سمجھا کر ان کو مغلوب کر سکے لیکن ایک چیز ہے جو دنیا کے پاس نہیں وہ اخلاق حسنہ