خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 914 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 914

خطبات طاہر جلد 15 914 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء پس اس وقت یہ خطبہ MTA کی طرف سے سویڈن کی نیشنل ٹیلی ویژن براہ راست اٹھا رہی ہے اور لندن کی معرفت دنیا کو نہیں پہنچ رہا بلکہ ہمارے سیٹلائیٹ پر سویڈن کی جو نیشنل ٹیلی ویژن کمپنی ہے اس نے اٹھایا ہے اور براہ راست ہمارے سیٹلائیٹ کو بھیج رہی ہے۔یہ جو عالمی رابطے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دور کی ایک خاص اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس کا جس قدر بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔اتنے حیرت انگیز فوائد MTA کے سامنے آ رہے ہیں کہ ہمارے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی زیادہ برکتیں اس نظام میں ہوں گی اور ضرورت کتنی تھی اس کا بھی کوئی احساس نہیں تھا۔اب جبکہ میں دورے کرتا ہوں بچوں سے ملتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ در حقیقت اس دور کا واحد تربیت کا ذریعہ ہے ورنہ بھاری تعداد میں ہمارے بچے ہیں جو مربیوں کی تربیت کے دائرے سے باہر ہیں جن کے ماں باپ کو خود تربیت نہیں آتی ، جن کے والدین، ان کے عزیز واقارب خود تربیت کے بہت محتاج ہیں، روز مرہ کے اخلاق سے بھی ناواقف، اسلامی آداب سے نابلد۔غرضیکہ یہ ایک ایسی ضرورت حقہ تھی کہ اگر خدا تعالیٰ زبر دستی ہمیں اس طرح انگلی پکڑ کر نہ لے جاتا تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم اس کی طاقت رکھتے ہیں اور اس وقت رکھتے بھی نہیں تھے، مگر لاعلمی میں کہ ہم طاقت رکھتے ہیں جب ہم اس دور میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے فضل سے ہماری استطاعت بڑھانی شروع کی اور اتنی بڑھائی کہ آج چوبیس (24) گھنٹے مسلسل تمام دنیا میں اگر کوئی ایک ٹیلی ویژن ہے جو پیغام بھجوا رہی ہے اور پروگرام دکھا رہی ہے تو صرف MTA ہے ساری دنیا میں اس کے سوا کوئی نہیں ،تب ہی حکومتیں حیرت زدہ ہیں۔بڑے بڑے ماہرین ادب سے سر جھکاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے وہ کام کر دکھایا جس کی آج دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کو بھی طاقت نہیں ہے۔اگر ہے تو اس طرح کہ مختلف ملکوں کے لئے، مختلف وقتوں میں الگ الگ پروگرام تو دکھائے جاتے ہیں مگر وہ بھی Advertisement یعنی اشتہار بازی کے ذریعہ اور اس کی خاطر اور جہاں اشتہار بازی آجاتی ہے وہاں مخرب اخلاق پروگراموں کا داخل ہونا لازم ہے۔جتنی بھی ہندوستانی کمپنیاں آج پاکستان کو خصوصیت سے متاثر کر رہی ہیں اور ان کے نہایت گندے اور بد ذوق فلمی پروگرام دیکھنے کے ہمارے پاکستانی عادی بن رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے پیسے کمانے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں کہ جتنے گندے اخلاق