خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 915
خطبات طاہر جلد 15 915 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء کا دنیا تقاضا کرے اس سے بھی بڑھ کر گندے اخلاق پیش کرو کیوں کہ بے حیائی کی بھوک بھی مٹ جایا کرتی ہے۔چند دن ایک قسم کی بے حیائی کی عادت پڑے تو اس سے آگے بڑھے بغیر پھر اس پہلی بے حیائی کا مزہ باقی نہیں رہتا۔یہی Drug Addiction کا فلسفہ ہے۔اور جماعت احمد یہ اس کے برعکس فلسفہ کو جو مثبت فلسفہ ہے، استعمال کر رہی ہے یعنی نیکیوں کے لئے بھی عادت پیدا کرنی پڑتی ہے، از خود نیکیوں میں دلچسپی پیدا نہیں ہوا کرتی۔تھوڑی تھوڑی نیکیاں چکھا چکھا کر ساری دنیا کی جماعت کو آگے بڑھانا، یہ ہمارے اعلیٰ مقاصد میں سے ایک مقصد ہے اور جب بھی نیکی کی عادت پڑتی ہے تو یہ عادت بدی کی عادت سے زیادہ پختہ ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نیکی کی عادت میں اللہ تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے ایک ایسی روحانی دائمی لذت ہے، جس کا رد عمل کوئی نہیں ، مگر بدی کی دلچسپیاں خواہ کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، کتنی طاقت سے اپنی طرف کیوں نہ کھینچیں، ہر شخص جب مزید بدی کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔اس کے ضمیر کی ایک آواز ضرور اٹھتی ہے، جو اس کو ملامت کرتی ہے اور ہر دفعہ اس ملامت کے Barrier اس کی حدیں پھلانگ کر ، انسان بدی کے اگلے دور میں داخل ہوا کرتا ہے۔یہاں تک کہ وہ آواز مر جائے اور جب مرجائے تو پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف اس کی واپسی یا نیکیوں کی طرف واپسی ناممکن ہو جاتی ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ کا خاص فضل اسے سنبھال لے۔پس اب بھی ہم نے دیکھا ہے کہ MTA کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری نئی نسلوں کے ذوق سدھر رہے ہیں۔وہ بچے جو دن رات کارٹونوں کے سامنے یا خوفناک فلموں کے انتظار میں نہایت ہی مخرب اخلاق فرضی کہانیوں میں مبتلا ہو چکے تھے یعنی ایسے عادی بن گئے تھے جیسے کوئی نشے میں مبتلا ہو جائے وہ اب سب وہ پروگرام چھوڑ کر احمد یہ پروگراموں کو جن کے اندر سادگی اور فطری ایک جذب ہے، سچائی ہے ، فطری جذب ہے، بے اختیاری ہے، کوئی بھی اس میں ایکٹنگ نہیں ہے، اس کے جب عادی بنتے ہیں تو پھر عادی ہوتے چلے جاتے ہیں ایک جگہ سے بھی کبھی آج تک یہ اطلاع نہیں آئی کہ احمدی بچوں نے کچھ عرصہ دیکھا اور اس کے بعد اس کو چھوڑ کر دوسرے ٹیلی ویژنوں کی طرف منتقل ہو گئے۔جب آئے تو ان کا ذوق بڑھتا گیا ان کا تعلق بڑھتا گیا اور جو بھی ہمارے پروگرام ہیں ان کے ساتھ ایک ذاتی وابستگی پیدا ہوگئی ہے۔