خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 889
خطبات طاہر جلد 15 889 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء صلى الله پس جب یہ حال ہے انسان کا تو اللہ کا تعلق کیسے قائم ہو جائے۔بدوں کے ساتھ تو تعلق قائم نہیں ہوا کرتا۔اس نکتہ کو آنحضرت ﷺ نے جس طرح سمجھایا حیرت انگیز ہے۔رسول اللہ ﷺ کی ایک ہی بات پر دل بے اختیار عاشق ہوتا ہے اچھل اچھل کر ، جس طرح دودھ کے لئے بچے کا دل اچھلتا ہے اور بچے کی پکار پر ماں کا دل اچھلتا ہے اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہر بات پر طالب حق کا دل بے اختیار سینے میں اچھلنے لگتا ہے۔دیکھیں کیسا نکتہ بیان فرمایا، فرمایا خدا کی مخلوق ہے، ناممکن ہے کہ وہ کلیہ حسن سے خالی ہو کیونکہ جب خالق حسین ہے تو اس کے نقش کو چاہے جتنا مرضی آپ گندہ کر دیں کہیں نہ کہیں سے اس کا حسن ضرور جھانکے گا۔مٹی ہوئی چیزیں بھی اپنے سابقہ حسن کی داستان خود دُہراتی ہیں۔کھنڈروں کو دیکھیں، بڑی بڑی عمارتوں، بڑے بڑے عظیم محلات کے کھنڈرات بھی بظاہر جنوں بھوتوں اور گیدڑوں اور بچھوؤں اور سانپوں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں مگر جب آپ ان کا معائنہ کرتے ہیں وہ دیکھتے ہیں تو آپ کو دکھائی دیتا ہے کہ کسی زمانے میں بہت خوب صورت عمارتیں تھیں کیونکہ حسن کا نقش کلیہ مٹ ہی نہیں سکتا۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ کلیہ بد ہی ہوگی، کوئی انسان حسن سے عاری ہو گیا ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ جب بندے سے تعلق رکھتا ہے تو اس حسن کے مقام پر اپنے قدم صدق کو جماتا ہے۔وہاں اپنا سچائی کا قدم رکھتا ہے جو حسین اور ستھرا مقام ہے۔پس جس طرح فوجیں Move کرتی ہیں فتح کرنے کے لئے ایک علاقے کو اور وہاں ایک War Head بناتی ہیں جہاں سے پھر انہوں نے آگے جنگ لڑنی ہے۔اللہ جب یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے کسی بندے کے دل میں اتر آنا ہے تو اس کو پتا ہے کہ میرے بندوں کی کون کون سی خوبیاں ان میں ابھی بھی قائم ہیں۔وہاں وہ قدم رکھتا ہے اور پھر وہاں سے وہ پھیلنا شروع ہوتا ہے اور اس کی بدیوں کو خو بیوں میں تبدیل کرنے لگتا ہے۔تو آپ کے لئے بھی یہی حکمت عملی ہے۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی بندہ حسن سے کلیۂ عاری ہو۔آپ کے پاس کافی گنجائش موجود ہے کہ آپ خدا کے بندوں کے حسن کو تلاش کریں، ان کی خوبیوں پر نظر رکھیں اور انکساری اس کے ساتھ یہ رکھیں کہ اپنے وجود کی بدیوں پر بھی نگاہ ڈالیں تا کہ جب آپ کسی وجود کو برا دیکھ رہے ہوں اور خوبیوں کے لئے محنت کر رہے ہوں، کوشش کر رہے ہوں کہ پتا کریں تو غلطی سے کہیں دماغ میں یہ غرور نہ سما جائے کہ آپ ہی سب سے اچھے ہیں۔