خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 888
خطبات طاہر جلد 15 888 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء ہے جو یہاں ہمارے سامنے رکھا گیا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ بندے اور خدا کے تعلق میں یہی معرفت کا نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کا غیر اللہ سے تعلق کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ہر غیر اللہ محدود ہے، ہر غیر اللہ کوئی نہ کوئی نقص رکھتا ہے، ہر انسان خواہ کتنا بھی خوب صورت دکھائی دے جب خدا کے زاویہ نظر سے اس کو دیکھیں گے اس میں نقائص دکھائی دیں گے اس میں کمزوریاں نظر آئیں گی۔اوّل تو بندوں کے نقطہ نظر سے بھی بے شمار کمزوریاں ہیں۔انسان کا اپنا نقطہ نظر جو ہے جہاں سے وہ اپنی ذات کو جانچتا ہے اگر وہ اچھا اور سچا ہو تو انسان اپنے اندر اتنی بدیاں پائے گا کہ اس کے ہوش و حواس گم ہو جائیں گے۔وہی ظفر کا شعر ہے جو میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں ہر دفعہ اس موقع پر مجھے یاد آتا ہے چونکہ اچھا ہے اس لئے میں اس کو بار بار بیان کرنے سے تھکتا نہیں۔بہادر شاہ ظفر نے اس نکتہ کو اردو شعر میں بہت عمدگی سے بیان کیا وہ کہتا ہے بی تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر اپنے حال سے جب تک غافل تھے لوگوں کے عیب و ہنر تلاش کرتے رہے۔پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا اپنی برائیاں دکھائی دینے لگیں تو اتنی زیادہ تھیں کہ ان کے مقابل پر کوئی بھی برا دکھائی نہیں دیا۔اب بظاہر یہ ایک شعری مبالغہ ہے لیکن میرے نزدیک ظفر نے خواہ حقیقت کو پہچان کر کہا تھا یا شعر کو خوب صورت بنانے کے لئے کہا تھا جو بات کہہ گیا وہ بات بالکل سچی ہے کیونکہ انسان اپنی برائیاں زیادہ دیکھ سکتا ہی نہیں جتنی مرضی تلاش کر لے۔ہر انسان نے اپنی برائیوں پر اتنے پر دے ڈھانچے ہوئے ہوتے ہیں اور اتنی احتیاطیں برتی جاتی ہیں کہ اس کی برائیاں دکھائی دینا شاذ کا کام ہے۔وہ جو بد آپ کو دکھائی دیتے ہیں بے حیا بھی ہوں تب بھی آپ کو نہیں پتا کہ جو دکھائی دے رہی ہیں برائیاں وہ تو جس طرح ایک آئس برگ کی ٹپ ہوتی ہے برف کا تو وہ جو سمندر میں تیر رہا ہے ایک بٹادس (1/10) صرف نظر آتا ہے اس کا باقی حصہ سب چھپا ہوتا ہے۔تو برائیاں ساری کی ساری تو کسی کی پتا لگ ہی نہیں سکتیں صرف ایک ہے وجود جس کی برائیاں آپ کو پتا لگ سکتی ہیں وہ آپ کا اپنا وجود ہے اور اگر آپ دیانت داری سے اپنی برائیاں تلاش کر لیں تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا‘ والا مضمون ضرور سچائی کے ساتھ صادق آئے گا۔