خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 887
خطبات طاہر جلد 15 887 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء اَحْسَنُوا وہ لوگ جو اس کام میں مصروف ہوتے ہیں کہ دوسروں پر احسان کر رہے ہیں، دوسروں کے حسن کو بہتر بنارہے ہیں پھر خدا کی تقدیر ان کے اندر بھی ان کے حسن کو بڑھانے لگتی ہے یعنی یہ جزاً کے طور پر ہے اور لفظ زِيَادَةٌ “ نے صاف بتا دیا کہ جز آہی مراد ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بندے کے اعمال کی جزا ان کے حقوق سے ہمیشہ زیادہ دیتا ہے۔فرمایا وہ لوگ جو دعوت الی اللہ کر رہے ہیں لوگوں کو بلا رہے ہیں خدا کی طرف دار السلام کی طرف بلا رہے ہیں کیونکہ اللہ بھی دار السلام کی طرف بلاتا ہے ان کو جزا کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ توفیق بخشتا ہے کہ ان کی اپنی خوبیاں بڑھ کر حُسنی کا مقام حاصل کر لیتی ہیں یعنی درجہ کمال کو جا پہنچتی ہیں۔وَ زِيَادَةٌ اور جب درجہ کمال کو پہنچ گئیں تو زِيَادَةٌ کیا ہوا۔زِيَادَةٌ میں وہ شعلہ نور والی بات ہے جو پہلے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں۔آنحضرت ﷺ کا حسن اس آیت میں جو آیت نور ہے اس میں درجہ کمال تک پہنچتا ہوا دکھایا جارہا ہے اس سے آگے وہ بڑھ نہیں سکتا بھڑک اٹھا ہے، پھر زیادہ کیسے ہوا۔اس لئے کہ اللہ کا نور اس میں اتر آیا اور جب اللہ کا نو را تر آیا ہے تو انسانی درجہ کمال کا مقام ختم ہو گیا پھر خدا کے کمال میں سفر کا مضمون شروع ہو جاتا ہے اور وہ لا متناہی ہے۔پس بہت ہی عظیم اجر کا دعوی ہے جو داعین الی اللہ کے لئے ہے کیونکہ سارا مضمون ہی وہ ہے اور اتنا عظیم الشان دعوی ہے کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں، کوئی آخری اس کا کنارہ نہیں ہے۔جولوگ بھی خدا کی خاطر حسن پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور حسن کے ساتھ لوگوں پر احسان کریں گے ان کے لئے خدا و عدہ فرماتا ہے کہ ان کے حسن کو اس حسن کی صلاحیتوں کے آخری کناروں تک پہنچا دے گا جس سے بڑھ کر انسان میں حسن ہو نہیں سکتا۔جب وہاں پہنچ گیا، اپنے درجہ کمال کو پہنچ گیا پھر اپنے حسن کا نوران پر اتارے گا اور پھر کوئی اس کی انتہا نہیں ہے زِيَادَةٌ ہی بس ایک لفظ ہے جو بیان کیا جا سکتا ہے کیونکہ زِيَادَة میں سب سے زیادہ کی بحث نہیں چھیڑی گئی ، ہو ہی نہیں سکتی تھی ، ان کا نور پھر خدا کے تعلق کی بناء پر ، اس سے وصل کے نتیجہ میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس آپ دعوت الی اللہ کے اس اعلیٰ عرفان سے آراستہ ہو کر جو اس آیت کریمہ نے ہمیں عطا فرمایا ہے پھر سفر شروع کریں ان لوگوں کی تلاش کریں جن کو خدا کی طرف بلانا ہے ان کی خوبیوں پر نظر رکھیں ان کی تلاش کریں جس طرح اللہ خوبیوں پر نظر رکھتا ہے اور تعلق جوڑتا ہے بعینہ یہی مضمون