خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 879 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 879

خطبات طاہر جلد 15 879 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء تو ایک اور بھی بہت خوب صورت مضمون مَنْ شام میں یہ موجود ہے کہ بلاتا سب کو ہے مگر جو اس کو پیارے لگتے ہیں جن کے اندر یہ خوب صورتی، اس حسن کا مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ خدا کی طرف آ سکیں تو پھر ان کے لئے اللہ کے دل میں ایک چاہت پیدا ہو جاتی ہے یعنی لفظ من سے مراد وہ دل نہیں جو انسان کا دل ہے مگر ایک معنوی طور پر ایک چیز دل کہلاتی ہے جو ارادے کا مرکز ہے یا چاہت کا مرکز ہے تو ان معنوں میں اللہ کے دل میں بھی ایسے شخص کے لئے ایک چاہت پیدا ہو جاتی ہے اور جب خدا کے دل میں چاہت پیدا ہو تو وہ آتا ہی آتا ہے اس کے لئے نہ آنا ممکن ہی نہیں رہتا۔پس دیکھو یہاں تلوار کا کون سا موقع ہے؟ کہیں جبر کی کون سی گنجائش باقی ہے؟ دنیا والے تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اندر بھی جب جذب پیدا ہو جائے تو ایسا جذب بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ دوسرے سے ”بن آئے نہ بنے مگر وہ جذب اگر پیدا ہو جائے تو پھر ا گلے کے لئے بے اختیاری ہو جاتی ہے۔تو اللہ کے اندر جب کسی کی چاہت پیدا ہو جائے ، جب جذب پیدا ہو جائے تو پھر وہ آئے گا اور ضرور آئے گا۔پس خدا کے بندے جو خدا کی طرف بلاتے ہیں ان کے لئے اس میں بہت ہدایت کے سامان ہیں۔اس آیت کے اسی ٹکڑے میں عظیم مضامین بیان ہوئے ہیں کہ تم جن کو بلاتے ہو یا درکھو ان کے حسن پر نگاہ رکھو اور کوشش یہ کرو کہ ان کے اندر جو بہترین مادے فطرت میں موجود ہیں ان کو اجا گر کرو ان کو اٹھاؤ اور باہر لاؤ ان کو جو دبے ہوئے ہیں اور مخفی ہیں۔جس طرح ایک آگ کا متلاشی راکھ کرید کر آگ کے چنگارے ڈھونڈتا ہے ہر انسان میں کچھ خوبیاں مخفی ہیں کچھ مدفون ہیں ان پر نظر رکھو اور ان سے کام لو۔جب وہ چمک اٹھیں گی جب ان میں جس طرح شعلے میں ، آگ کے چنگارے میں یا جلتے ہوئے کوئلے میں جو چنگارا تو کہلاتا ہے مگر وہ ابھی بھڑکا نہیں ہے اس میں چنگاریاں اس سے اٹھنے لگیں اور اپنے گرد کو جلانے یا روشن کرنے کی اس میں صلاحیت پیدا ہو جائے تو پھر وہ دیدہ زیب ہو جاتا ہے وہ نظر کو کھینچنے لگتا ہے تو اسی طرح مومن کے دل میں بھی کچھ نیکیاں دبی ہوتی ہیں جب وہ اٹھتی ہیں تو پھر اللہ کی توجہ ان کی طرف پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ ایسا نور تھا جو ویسے ہی بھڑک اٹھنے کو تیار تھا۔وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَار (النور : 36) آگ اسے چھوٹے نہ چھوئے اس سے قطع نظر اس کی ذات میں شعلہ بننا اور چمک اٹھنا اور ماحول کو روشن کر دینا اس طرح شامل تھا کہ فطرتا اس میں یہ مادہ پایا جاتا