خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 880
خطبات طاہر جلد 15 880 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء تھا اس نے ہونا ہی تھا یہ، اس پر آسمان سے اللہ تعالیٰ کے نور کا شعلہ اترا ہے اور نُورٌ عَلَى نُورٍ وہ نور پر نور بن گیا۔تو اللہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو چاہا تو بے مقصد تو نہ چاہا، بے وجہ تو نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار فرمایا اور فضیلت بخشی۔نور کا آغاز آپ کی ذات میں ہے وہاں وہ چپکا ہے وہاں سے وہ اٹھ کر دنیا کو روشن کرنے پر آمادہ ہوا تھا تب آسمان سے وہ شعلہ نو را ترا ہے جس نے اپنے ساتھ اس کو چمٹالیا اور ایک خدا اور بندے کا جس حد تک بھی اتصال ممکن ہے وہ اتصال ہمیں آنحضرت ﷺ کے نور کا خدا کے نور کے ساتھ ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔تو یہی مضمون ہے جو ہر بندے پر کسی نہ کسی حد تک اس کی توفیق کے مطابق جاری ہوتا ہے اور یشاء کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے۔اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو چنا، جس کو چاہتا چن سکتا تھا مگر اس کے چاہنے میں ایک حسن ہے اس بات کو لوگ بھول جاتے ہیں اور وہ بد چیز کو چاہ ہی نہیں سکتا۔جس کو سب سے اچھا چاہا اس میں سب سے اچھا ہونے کی صلاحیتیں موجود تھیں اور وہ سب سے اچھا بننے کی کوشش کر رہا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے جیسا وہ تھا ویسا ہی اس سے سلوک فرمایا۔پس تقدیر اور تدبیر کا جو سنگم ہے وہ اس طرح پیدا ہوتا ہے۔بندے کی تدبیر کے مطابق خدا کی تقدیر اترتی ہے اور یہ دونوں مل کر پھر تقدیر ہی بن جاتے ہیں پھر تد بیر جدا نہیں رہتی۔تو اس مضمون کو میں بیان کر رہا ہوں۔بہت ہی اعلیٰ شان کے انسانوں میں تو ہمیں دکھائی دینے لگتا ہے مگر عام انسانوں میں یہ دکھائی نہیں دیتا جس کی وجہ سے ہم سے کو تا ہی ہو جاتی ہے اور ہماری کوتاہی کے نتیجے میں ہماری دعوت الی اللہ کی کوششیں ضائع چلی جاتی ہیں۔پس پہلی نصیحت آپ کو یہ ہے کہ جن کو آپ خدا کے رستے کی طرف بلاتے ہیں ان میں خوبیوں کی تلاش کریں بلکہ ان کو چاہیں جو اچھے ہیں جن کی خوبیاں دکھائی دے رہی ہیں۔کج بحثوں اور ضدی لوگوں سے یا بداخلاق لوگوں سے کئی داعی الی اللہ سرٹکراتے رہتے ہیں، ساری عمران کی یہ سرٹکراتے گزر جاتی ہے اپنا سر پھوڑتے ہیں اور اس کے سر میں کچھ داخل نہیں کر سکتے اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی سنت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔پس اس مضمون کو اور آگے بڑھائیں اور پھیلائیں تو پھر یہ حکمت عملی ہمارے سامنے آئے گی کہ تمہیں لازماً حسن کی تلاش کرنی ہے تا کہ اسے چمکاؤ، اسے اور زیادہ کر دو اور ایسا کر دو کہ اللہ کی پیار کی نظر اس پر پڑنے لگے۔جب خدا کی نظر اس پر پڑے گی تو پھر تم ایک طرف ہو جاؤ اس نے آنا ہی آنا ہے۔اور