خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 878 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 878

خطبات طاہر جلد 15 878 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء جابر ہے اس کی مرضی ہے وہ مادر پدر آزاد ہے جو اس کے من میں آئے کر گزرے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔اللہ تعالیٰ کو پوچھنے والا تو کوئی نہیں مگر اللہ تعالیٰ خود ان صفات حسنہ کے انتہائی مقام پر فائز ہے جس سے آگے صفات حسنہ ہو ہی نہیں سکتیں اور اس کی صفات حسنہ اس پر نگران ، خدا کی صفات حسنہ خود نگران ہیں یعنی اس بات کی ضامن ہیں کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جو صفات حسنہ کو گزند پہنچا سکے کیونکہ جہاں خدا کی ایک صفت نے اپنی جلوہ گری میں دوسری صفت میں نقص ڈالا وہاں خدا، خدا نہ رہا۔پس یہ کامل عدل اور کامل توازن حسن کامل پیدا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ جب یہ فرماتا ہے کہ جس کو چاہتا ہے بلاتا ہے مراد ہرگز یہ نہیں کہ جبری فیصلہ کرتا ہے اقتداری فیصلہ کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہی نہیں کہ وہ اس کے اہل ہے بھی کہ نہیں۔شام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا کہ خوب کھول کر بیان فرمایا ہے لفظ یشاء میں اچھی بات ہونا لازم ہے۔چنانچہ براہین احمدیہ میں بھی آپ نے اس مضمون کو خوب تفصیل سے کھولا اور خصوصاً آریوں کے ساتھ بحث اور گفتگو اور عیسائیوں کے ساتھ بحث اور گفتگو میں اس نکتے کو کھولا ہے کہ تم جو یہ سمجھتے ہو کہ شام کا مطلب یہ ہے کہ جبر کسی کو کچھ کہتا ہے یا فیصلہ کرتے وقت بے دلیل فیصلہ کرتا ہے یہ بالکل غلط اور بے بنیاد بات ہے۔ساتھ میں چاہتا ہے اور اچھی چیز ، بری چیز چاہی نہیں جاسکتی۔ایک منصف مزاج نا انصافی چاہ ہی نہیں سکتا۔ایک محبت کرنے والا نفرت چاہ ہی نہیں سکتا۔تو جب یہ کہا جائے اللہ چاہتا ہے تو لازم ہے کہ وہ چاہنا مبنی بر عدل ہے مینی برحسن ہے اور ایسا چاہتا ہے کہ اس کے اندر کسی قسم کے ظلم کا کوئی شائبہ تک بھی موجود نہیں۔پس ان معنوں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ دار السلام کی طرف بلاتا ہے مگر سب نہیں آئیں گے۔يَهْدِى مَنْ تَشَاءُ اس کو ہدایت دے گا جس کے متعلق وہ یہ فیصلہ فرماتا ہے کہ وہ اس لائق ہے کہ اسے ہدایت دی جائے اور جس کے لئے خدا کی طرف سے بلانے میں ایک چاہت پیدا ہو جاتی ہے۔اب شام کے لفظ میں ایک چاہت کا مضمون بھی ہے۔آپ جو چیز چاہتے ہیں اس کی طلب کرتے ہیں، اس کی جستجو کرتے ہیں۔اگر بے اختیار ہوں تو وہی طلب ایک بھڑکی میں تبدیل ہو جاتی ہے ایک آگ سی سینے میں جل جاتی ہے کہ میں چاہتا ہوں اس کو مگر میرے اختیار میں نہیں کہ میں اسے بلالوں اور اللہ کے اختیار میں ہے۔