خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 867
خطبات طاہر جلد 15 867 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء کو ، ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ یہ فوز عظیم ہے نہ کہ وہ چار پرسنٹ یا دس پرسنٹ کی کمائی ہوئی تمہاری چیزیں، ان کی حقیقت کیا ہے اس کے مقابل پر۔وہ تو عارضی زائل ہونے والی ، باطل ہونے والی چیزیں تھیں سارے قرضے تمہارے اتار کر اس سے ہزاروں گنا زیادہ بھی خدا دے دے گا تو یہ خدا پر قرض باقی رہے گا پھر۔یہ قرضہ حسنہ جس کی طرف قرآن نے ہمیں بلایا اور اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ تو فیق عطا فرمائی کہ اس طرف اس مادی دنیا کو بلائیں اور انہی میں سے پھر لوگ زندہ ہو ہو کر آپ کے گرد جمع ہوں دنیا کے کونے کونے سے خدا کی پاک روحیں اکٹھی ہوں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے اس نظام قرض میں داخل ہو کر اس کے حیرت انگیز پھل دیکھیں، کھائیں اور دوسروں کو کھلائیں تحریک جدید کی برکتوں سے جو کچھ دنیا کو فیض پہنچ رہا ہے یہ وہ پھل ہیں جو اس دنیا میں مل رہے ہیں اور ان پھلوں کا بھی یہی قصہ ہے ہم سمجھ رہے ہیں بڑے پھل مل گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کے دن تمہیں جب اصل پھل ملیں گے تو تم کہو گے ہاں ہمیں دنیا میں ملے تھے لیکن یہ وہ نہیں ہیں ملتی جلتی چیزیں تھیں۔تمہیں پتا ہی نہیں کہ یہ کیا چیزیں ہیں یہ ان سے بہت زیادہ بڑی نعمتیں ہیں اور یہ اجر عظیم یا اجر کریم ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔پس اس پہلو سے مالی قربانی کوئی ایسی چیز نہیں جو مادی طور پر منافع بخش ہو یا وہ مقصود ہو۔اگر وہ مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا مجھے سود پہ روپیہ دو۔صاف ظاہر ہے کہ مومن کی نیت میں قرضہ حسنہ لازماً رہنا چاہئے اور زیادہ لینے کی نیت کے ساتھ نہیں دینا چاہئے۔جو پہلوں نے دیا تھا اس طرح دیا تھا۔اب ایک اور امتحان در پیش ہوتا ہے دینے والے کو وہ اگر زیادہ لینے کی نیت سے دے گا تو اس دنیا میں تو اسے مل جائے گا مگر پھر اجر کریم نہیں ملے گا کیونکہ وہ قرضہ حسنہ نہیں تھا۔مگر میرا تجربہ ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قرضہ حسنہ نہیں دیتے ،خدا کو سود پہ رقم دیتے ہیں ان معنوں میں کہ ان کا تجربہ ہے جب دیتے ہیں ضرور زیادہ ملتا ہے تو ان کو دنیا میں مل تو جاتا ہے مگر اجر عظیم یا اجر کریم کا وعدہ، فوز العظیم اور اجر کریم کا وعدہ ان کو نہیں ملتا۔اللہ کی مرضی ہے احسان کے طور پر جو چاہے کر دے اس کی رحمتوں کی راہ میں تو کوئی قدغن نہیں لگا سکتا یعنی یہ مراد ہر گز نہیں مگر عام دستور کے مطابق عقل کے تقاضوں کے مطابق یہی دکھائی