خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد 15 80 60 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء پس اس پہلو سے زاد راہ لے کر آگے بڑھو یہ مضمون ہے جو میں آپ کے سامنے بڑی وضاحت کے ساتھ کھولنا چاہتا ہوں اور اس تعلق میں اس آیت کی میں نے تلاوت کی ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ کہ جب میرے بندے تجھ سے یہ پوچھیں یا تجھ سے سوال کرتے ہیں میرے متعلق فَانِي قَرِیب میں تو قریب ہی ہوں أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے فَلْيَسْتَجِوانِی وہ بھی تو میری باتیں مانیں وَلْيُؤْمِنُوا بِی اور مجھ پر ایمان لائیں لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ ہدایت پا جائیں۔سوال یہ ہے کہ لوگ آنحضرت ﷺ سے سوال کرتے تھے۔اللہ فرماتا ہے میرے متعلق تجھ سے پوچھتے ہیں۔اس حد تک تو بات درست اور سمجھ میں آنے والی ہے جس نے کوئی گھر دیکھا ہو اسی سے اس کا پتا پو چھا جاتا ہے، اسی سے اس کے رستے کی تلاش میں مدد مانگی جاتی ہے۔جس نے کوئی گھر دیکھا ہی نہ ہواس سے تو نہیں پوچھا جاتا۔حضرت گوتم بدھا کے متعلق یہ آتا ہے کہ کچھ پنڈت ان کے پاس آئے جو ایک ایسے گاؤں کے رہنے والے تھے جو تمام ہندوستان میں پنڈت پیدا کرنے کے لحاظ سے سب سے چوٹی کا گاؤں تھا اور انہوں نے حضرت گوتم بدھ سے کچھ سوالات کئے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ حضرت گوتم بدھ کے متعلق جیسا کہ عام انبیاء کے متعلق یہی طریق ہوتا ہے یہ مشہور ہو گیا تھا کہ وہ دہر یہ ہیں ، بے دین ہیں ، خداؤں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔پس اس خیال سے ان کو دلچسپی پیدا ہوئی کہ ان سے انہوں نے سوال کیا۔تو بہت ہی پر حکمت جواب دیا۔انہوں نے کہا تم کس گاؤں سے آئے ہو۔فلاں گاؤں سے ، اس لئے اگر کوئی شخص اس گاؤں جانا چاہے تو تم سے رستہ پوچھے گا ،کسی اور سے تو نہیں پوچھے گا اور جو کسی گاؤں کا رہنے والا نہ ہو ، جس نے کبھی دیکھا تک نہ ہو اس سے کون رستہ پوچھا کرتا ہے۔تو وہ بات سمجھے۔انہوں نے کہا پھر تم مجھ سے کیا پوچھنے آئے ہو۔مراد یہ تھی کہ خدا کی باتیں مجھ سے پوچھتے ہو جس پر الزام یہ ہے کہ وہ خدا کا قائل ہی نہیں ہے۔مگر پھر کہا تم لوگوں کو تو اپنے گاؤں کا بھی نہیں پتا۔تمہارے پنڈتوں کو بھی اس کا رستہ نہیں آتا۔میں اس ملک کا رہنے والا ہوں جو خدا کا ملک ہے۔میں اس ملک کا باشندہ ہوں جو بقا کا ملک ہے۔میں وہاں کی بھی خبر جانتا ہوں اور یہاں کی بھی جانتا ہوں اس لئے جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھو۔یہ بہت ہی پیارا گہرا کلام ہے قطعی طور پر