خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 79
خطبات طاہر جلد 15 70 79 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء کامل وفاداری اور کامل سچائی کے ساتھ خدا کو بلانے صلى الله والے الدَّاعِ “ حضرت محمدمہ تھے۔( خطبه جمعه فرموده 2 فروری 1996ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِى فَإِنِي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَتَجِيُوالِى وَلْيُؤْمِنُوْابِى لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: 187) پھر فرمایا: رمضان کے تعلق میں اس آیت کی پہلے بھی کئی بار تلاوت کی جاچکی ہے۔اس کے مضمون پر مختلف پہلوؤں سے جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں۔اب جب کہ رمضان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہم اس کے دوسرے دہا کے یعنی عشرے میں داخل ہو چکے ہیں۔تو جب دوسرا عشرہ لگ جاتا ہے تو عموماً تجربہ یہی ہے کہ پھر تیزی سے رمضان آگے بڑھتا ہے جیسے ایک لٹو چل گیا ہو اور پندرہ دن آئے تو پھر آگے اعتکاف کے دن شروع ہو جائیں گے اور اعتکاف آیا اور گیا پتا نہیں چلتا کہ کب آیا اور کب نکل گیا ، تو جو دن باقی ہیں اگر چہ بظاہر بارہ کے مقابل پر ابھی اٹھارہ دن باقی ہیں مگر چونکہ اب دنوں کی رفتار اور راتوں کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے اس لئے اب جو کچھ بھی کرنا ہے ابھی کر لیں ، دن تھوڑے رہ گئے ہیں اور رمضان کے دن تو ویسے ہی اللہ نے فرمایا ہے آیا مًا مَّعْدُودَةٍ (البقرة: 185) بڑی برکتوں والے ہیں اس پہلو سے اَيَّامًا مَّعْدُودَت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل ہے تو تھوڑے دن ہی ہے۔اصل معنی اس کا یہ ہے کہ اتنے اچھے دن مگر کتنے تھوڑے ہیں۔آئے اور نکل گئے۔تو اس لئے جو کچھ بھی کمانا ہے اس عرصے میں کما لو جو محنت کرنی ہے کر لو اور اس حد تک کمالو کہ سارا سال کام آئے۔