خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد 15 81 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء ثابت کرتا ہے کہ حضرت بدھ علیہ السلام خدا کے ایک پیارے پاکیزہ نبی اور خدا کی ہستی کے گہرے قائل بلکہ اس کے عرفان کے دعویدار تھے۔تو اس لئے جو جس ملک کا ہو، جس جگہ کا باشندہ، جس ذات کے ساتھ گہرا تعلق ہو اس کے متعلق اسی سے پوچھا جائے گا۔یہ پہلو تو ہر گز تعجب انگیز نہیں وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ کہ اے محمد ملے جب یہ میرے بندے تجھ سے پوچھتے ہیں تو اس پہ تو کوئی اعتراض نہیں مگر وہ کہتا ہے میں قریب ہوں تو کیوں اس کو محسوس نہیں کر رہے؟ کیوں اس کے قرب کا احساس نہیں پیدا کرتے؟ رستہ پوچھتے پھرتے ہیں وہ تو ٹھیک ہے پوچھتے بھی اس سے ہیں جو درست ہے اسی سے رستہ پوچھنا چاہئے تھا مگر وہ وجود جو ہر وقت ساتھ رہتا ہو اس کے متعلق پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَادَعَانِ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے بلاتا ہے اور یہ جو دعوت ہے یہاں یہ عام دعوت مراد نہیں۔ایسی دعوت جس میں گہری سچائی پائی جائے ، جس میں اخلاص ہو ، جس میں یقین ہواس دعوت کا خدا جواب اس حد تک دیتا ہے کہ فرماتا ہے جب وہ لوگ جو کشتیوں میں سفر کرتے ہیں نرم خو ہواؤں میں چلتے ہیں یہاں تک کہ وہ ہوائیں بدل جاتی ہیں اس سے پہلے خدا کے قائل بھی نہیں ہوتے مگر اس وقت جب کہ موت سامنے کھڑی نظر آتی ہے جب ان کو غرقابی دکھائی دیتی ہے تو گھبرا کر پھر مجھے پکارتے ہیں میں پھر بھی ان کی سن لیتا ہوں، انہیں بچالیتا ہوں۔جانتے ہوئے کہ جب وہ ساحل کے امن تک پہنچ جائیں گے تو وہ اس وقت پھر اسی شرک میں مبتلا ہو جائیں گے جو پہلے کیا کرتے تھے۔تو خدا تعالیٰ کا سننا ایک قطعی ثابت شدہ حقیقت ہے یہاں تک کہ دہریوں کی بھی سن لیتا ہے، مشرکوں کی بھی سن لیتا ہے اس سے زیادہ قریب اور کیا ہوسکتا ہے اور ہر موقع پر جب کہ بیچ میں کوئی اور راہ بتانے والا نہ ہو خدا وہاں موجود ہے۔تو اس پہلو سے توجہ یہ دلائی گئی ہے کہ میں جو ہمیشہ قریب ہوں تم مجھے دور نہ رکھو۔اتنا دور نہ رکھو کہ میرے متعلق تمہیں پوچھنا پڑے، پوچھتے پھرو کہ میں کہاں ہوں۔پس ایسی ذات جو دور بھی ہے اور قریب بھی ہے تم چاہو تو اسے دور بھی بنا سکتے ہو، چاہو تو اسے قریب بھی سمجھ سکتے ہو، میرا وعدہ ہے کہ اگر تم مجھے قریب سمجھو گے تو میں قریب ہو کر تمہیں دکھائی دوں گا۔تمہاری باتوں کا جواب دوں گا جیسے قریب بیٹھا شخص بولتا ہے تو آپ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اسے بہت چیخنا نہیں پڑتا۔اسی مضمون میں ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے اپنے سفر کے اُن