خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 846 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 846

خطبات طاہر جلد 15 846 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء سے جماعت احمد یہ عالمگیر کو ایسا انعام عطا فرمایا جس کے ساتھ اس کی زندگی وابستہ ہوگئی ہے۔اگر MTA کے ذریعے ہم افریقہ کے جنگلوں تک نہ پہنچ سکتے ،اگر MTA کے ذریعے چین اور جاپان تک نہ پہنچ سکتے ، امریکہ کے مختلف گوشوں میں اور شمال اور جنوب تک نہ پہنچ سکتے تو کتنی بڑی نسلیں ہیں جو مرکز کے براہ راست دائرہ اثر سے باہر رہتیں۔اگر چہ وہ ساری ابھی تک اس دائرے میں نہیں ہیں یہ کہنا مبالغہ ہوگا اور قول سدید کے خلاف ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ سب اب تربیت کے دائرے میں آگئے ہیں بالکل غلط ہے۔ابھی بہت سفر ہم نے کرنے ہیں مگر اتنے احمدی لازماً ہر ملک میں MTA کی وجہ سے احمدیت کی محبت میں پہلے سے بہت بڑھ گئے ہیں کہ آگے وہ پھر علم بردار بن گئے ہیں۔اب اس وجہ سے ان جماعتوں میں جہاں ہماری براہ راست رسائی نہیں تھی ایسے نو جوان پیدا ہو گئے ہیں ایسے بوڑھے پیدا ہو گئے ہیں جو آگے پھر جماعت کی تربیت کی طرف توجہ کرتے ہیں، جو سیکھتے ہیں وہ آگے سکھاتے ہیں۔پھر بہت سی تربیتی کلاسز ہیں جن میں MTA براہ راست ان کے لئے پروگرام مہیا کرتا ہے اور افریقہ کے جائزے سے پتا چلا ہے کہ بعض علاقے ، بڑے وسیع علاقے جہاں بہت سے دیہات میں کوئی بھی احمدی مربی نہیں پہنچ سکا اور افریقہ کے حالات بہت مختلف ہیں وہاں نہ سڑکوں کا صحیح انتظام، نہ مواصلات کا پورا صحیح انتظام، پھر غربت کی وجہ سے دینے کے لئے پیسے بھی نہیں اور وہاں MTA بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔تو ان کے لئے میں نے پروگرام یہ بنایا کہ مختلف افریقن ممالک میں مختلف خطوں میں علاقوں کو تقسیم کر کے ان کے درمیانی حصے میں MTA تمام لوازمات کے ساتھ مہیا کر دیا گیا اور جماعت کو یہ تاکید کی گئی کہ اپنی تربیتی کلاسز وہاں رکھیں تا کہ دور دور سے آنے والے وہاں پہنچیں اور وہ براہ راست اس کو دیکھیں اور ان کو ایک لگن پیدا ہو جائے۔چنانچہ ان تربیتی کلاسز کی جور پورٹس پہنچتی یعنی تربیت کے لئے جو ہم مدارس سے بناتے ہیں، عارضی مدارس لگاتے ہیں ان کی رپورٹوں سے پتا چلا ہے کہ چالیس چالیس پچاس پچاس میل پیدل چل کے وہاں پہنچے ہیں۔اگر وہ چالیس پچاس میل تک چل کے نہ آتے تو مربی کے لئے کہاں ممکن تھا کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس چالیس چالیس میل پیدل چل کے پہنچے اور جب وہ شامل ہوئے اور دیکھا تو ان کی کایا پلٹ گئی۔بعض علاقوں میں تو مربی نے مجھے رپورٹ دی ہے بعض یہاں پہنچے ہیں مل کر بتایا ہے کہ دور تک ایسا خلاء تھا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی یہاں بڑی نسلوں کو سنبھالیں گے کیسے۔ایسے علاقوں میں جہاں