خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 842
خطبات طاہر جلد 15 842 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء میں مختصر ابتاتا ہوں کہ ان ممالک میں خصوصاً جن کو سیکینڈے نیوین Countries کہا جاتا ہے ان میں دہریت باقی یورپ کے مقابل پر بہت زیادہ ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ جنوب سے شمال تک یورپ کا سفر کریں تو جوں جوں شمال کی طرف بڑھتے ہیں دہریت کا عنصر بڑھتا چلا جاتا ہے ہاں بیچ میں ایک ایسا جزیرہ ہے جو دہریت میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے وہ سوئٹزرلینڈ ہے اور اکثر لوگوں کو علم نہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں تمام یورپ کے ممالک سے زیادہ دہریت پائی جاتی ہے اور جہاں دہریت پائی جائے وہاں ایک تضاد بھی دکھائی دے گا۔ یورپ کے اندر شمال اور جنوب میں ایک تضاد ہے۔ جنوب میں مذہب کا رجحان زیادہ ہے مگر ایسے مذہب کا رجحان جس نے دہریت پیدا کی یعنی جہالت کے ساتھ ایسے عقائد سے چمٹ رہنا جن کو انسانی ضمیر قبول نہیں کرتا۔ انسان کی عقل ، اس کا فہم اس کو رد کرتے ہیں۔ یہ وہ عقائد ہیں جن کو آپ آج کل کی اصطلاح میں Fundamentalist عقائد کہتے ہیں یعنی بنیاد پرست ۔ ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ عقیدہ ذہن اور دل کو مطمئن کرتا ہے کہ نہیں وہ اس کے ساتھ : چمٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں بس یہی ہمارا عقیدہ ہے اور چونکہ ایسے عقیدے سے چمٹنے کے لئے عقل کو خیر باد کہنا پڑتا ہے اس لئے اکثر یہ لوگ انتہا پسند ہو جاتے ہیں اور وہ لوگ جو انتہا پسند نہ ہوں جن کا مزاج معتدل ہو، جن کا ذہن روشن ہوان کے دو حصے ہو جاتے ہیں ۔ کچھ تو وہ جو اس کو برداشت کرتے ہیں کہتے ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی ۔ ایک وہ جو پیچھے ہٹ کر کھلم کھلا دہریت کی گود میں چلے جاتے ہیں۔ تو جونہی ہم جنوب سے شمال کی طرف جاتے ہیں اگر چہ دہریت بڑھتی ہے مگر عقل کی روشنی بھی ساتھ بڑھ رہی ہوتی ہے اور ضد اور تعصب مذہب کے معاملے میں، دنیا کی بات نہیں میں کر رہا، مذہب کے معاملے میں ضد نسبتاً کم ہوتا جاتا ہے۔ اور اٹلی اور سپین اور پرتگال میں جہاں عیسائیت زیادہ زور سے قائم ہے وہاں دو انتہا ئیں ہیں یا بالکل کٹر پکے دہریہ، ایسے جنہوں نے بسا اوقات حکومتوں پر قبضے بھی کئے اور مذہب کے خلاف کھلم کھلا علم بغاوت بلند کیا اور وہ کٹر عیسائی جن کے نزدیک عقل اور سوچ اور فہم کی کوئی طاقت نہیں ، کوئی نہیں مذہبی مسائل نہیں ۔ مذہب الگ ہے اور عقل الگ ہے اور جب مذہب اور عقل میں آپس میں کوئی واسطہ نہ رہے تو اس کے نتیجہ میں تشدد پیدا ہونا لازمی ہے۔ پھر ایسے لوگوں کو مذہب کے نام پر جو بھی آپ عقیدہ بتائیں گے وہ اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے تیار ہوں گے خواہ وہ دیکھتے ہوں کہ یہ