خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 830 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 830

خطبات طاہر جلد 15 830۔خطبه جمعه 25 اکتوبر 1996ء چنانچہ فرمایا کہ جب وہ غور کرتے ہیں اور فکر کرتے ہیں تو ایک چیز ان کے دماغ میں ضرور جاگتی ہے کہ یہ باطل نہیں ہے۔اتنا حیرت انگیز کارخانہ ،ایسا متناسب یہ از خود بے وجہ، بے مقصد پیدا نہیں ہوسکتا۔ایک کرسی کو آپ بنے ہوئے دیکھیں تو کوئی نہیں سوچ سکتا کہ از خود پیدا ہوگئی ہوگی کوئی نہیں سوچ سکتا کہ اگر از خود بھی پیدا ہوئی ہے تو بے مقصد ہے۔صناعی کا ایک مقصد ہوتا ہے جو دکھائی دینے لگتا ہے اور ہم نے کئی قسم کے رنگارنگ کے ہٹ رستے میں دیکھے ہیں یعنی جن کو عام طور پر لوگ Huts کہتے ہیں یا جھونپڑیاں، یہاں کی جھونپڑیاں بھی بڑی خوبصورت ہیں۔مگر بعض بالکل سادہ اور معمولی ، بعض بہت زیادہ حسین اور مزین لیکن کسی گھٹیا سے گھٹیا ہٹ کو دیکھ کر بھی کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ بے مقصد یہاں کھڑی کر دی گئی تھی پرانے Barns جہاں توڑی وغیرہ اس قسم کے جانوروں کے چارے رکھے جاتے ہیں وہ ان کے کھنڈرات ہیں بہت ہی بد زیب لکڑیاں گل گئیں، رنگ بگڑ گئے، چھتیں ٹوٹ گئیں لیکن ان کو دیکھ کر بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ بے مقصد پیدا کئے گئے تھے۔پس یہی آواز ہے جو مومن کے دل سے ان باتوں پر غور کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور بڑے زور سے اٹھتی ہے کہ اے خدا! تو نے ان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ پس ہمیں تو آگ کے عذاب سے بچا۔اب دیکھیں ان دونوں باتوں کا کیا جوڑ ہے بے مقصد پیدا نہیں کیا ان چیزوں کو اس لئے تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔لوگ یہ سن کر آگے گزر جاتے ہیں لیکن ٹھہر کر سوچتے نہیں کہ اس کا آگ کے عذاب سے آخر کیا تعلق ہے۔کائنات کو دیکھا بے مقصد پیدا نہیں ہوئی یہ خیال آیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گائے بات وہیں ختم ہو جانی چاہئے۔مگر جن مومنوں کی بات ہو رہی ہے جن کی یادیں ہمیشہ خدا سے وابستہ رہتی ہیں جو رات اور دن کو اللہ کی محبت میں اٹھنے والے لوگ ہیں ان کا ذہن صرف ان نظاروں میں نہیں اٹکا رہتا جو وہ دیکھتے ہیں بلکہ لازماً اپنی طرف مائل ہوتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ یہ جو سامنے کے مناظر ہیں یہ کائنات جو ہمیں دکھائی دیتی ہے ہم تو اس سے بہت ہی زیادہ نا قابل بیان حد تک عظیم شاہکار ہیں خدا تعالیٰ کی قدرت کا۔اگر یہ زمین و آسمان اسی طرح رہ جاتے تو کون تھا جو خدا کے اس حسن کو اور خدا کی اس صنعت کو دیکھتا، پہچانتا اور اس کی وسعتوں اور عظمتوں میں ڈوب سکتا۔انسان ہی ہے جو آخری شاہکار ہے۔انسان کی ذات میں یہ کائنات زندہ ہو گئی ہے۔یہ مٹی، یہ درخت، یہ گھاس، یہ نہ سوچنے والی