خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 829
خطبات طاہر جلد 15 829 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء کوشش کرے۔وہ پردے بولنے لگتے ہیں۔وہ پر دے اس حسن کو ظاہر کر دیتے ہیں اگر آپ کو دیکھنے کی آنکھ نصیب ہو۔مگر اس کے علاوہ ایسی بھی صورت ہوتی ہے جیسا کہ غالب نے کہا کہ: جب وہ جمال دل فروز ، صورت مہر نیم روز جب وہ دل کو بھڑکا دینے والا جمال دن چڑھے کے سورج کی طرح ظاہر ہو جائے تو ” پر دے میں اسے چھپائے کیوں“ کون ہے جو اس کو دیکھ سکتا ہے ، وہ تو نظروں کو خیرہ کر دے گا۔ایسی صورت میں اسے پردوں کی کیا ضرورت ہے۔تو اگر اس شعر کا کوئی اطلاق کہیں ہوتا ہے تو وہ ناروے پہ ضرور ہوتا ہے مگر اس کے منفی معنوں کا بھی اطلاق ہورہا ہے جس کی وجہ سے مجھے فکر ہوتی ہے اور تکلیف پہنچتی ہے کہ واقعی آنکھیں ایسی خیرہ ہوگئی ہیں کہ ان کو وہ حسن جو کھلا اور ظاہر وباہر ہے وہ دکھائی نہیں دیتا اور غافل رہتی ہیں۔لوگ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اور خالق کی طرف دھیان نہیں جاتا بلکہ یہ حسن ہی ان کی نظر کی صلاحیتوں کو گو یا جلا دیتا ہے اور خاکستر کر دیتا ہے۔پس یہ وہ چیزیں ہیں جو اس سفر میں میں سوچتارہا اور میں نے سوچا کہ اسی مضمون کو آج آپ کے سامنے رکھوں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ظاہر و با ہر حسن آپ کو دیکھنے کی توفیق بخشی ہے اس کو اگر آپ نہ پہچان سکیں اور اس کے نتیجے میں وہ مضمون دل میں پیدا نہ ہو جس کا ان آیات میں ذکر ہے اور بار بارسوتے جاگتے ، اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں اچھلنے نہ لگے تو پھر آپ اس ملک کی خدمت کی کوئی توفیق نہیں رکھتے۔پھر آپ جیسے چاہیں یہاں زندگی بسر کریں، جیسے چاہیں بلند ارادے باندھیں یہ وہ خدمت ہے جو محبت کے سوا نصیب نہیں ہو سکتی۔پس محبت الہی ہی سب باتوں کا جواب ہے اور ایسے حسین ملک میں اگر آپ تو جہات کو ان مناظر سے پیچھے خالق کائنات کی طرف دوڑا دیں، اگر اس کے تصور سے اپنے ذہن کو ضرور مزین کریں تو ناروے سے زیادہ حسن آپ کے ذہنوں میں ، آپ کی شخصیتوں میں پیدا ہو جائے گا کیونکہ یہ تو ایک ظاہری حسن ہے مگر خدا کا تصور جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے جو راتوں کو بھی اٹھتے ہیں اور صبح بھی، کروٹیں بدلتے ہوئے بھی خدا کو یاد کرتے ہیں وہ حسن انسان کو ایک ایسے مجسم حسن میں تبدیل کر دیتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ناممکن ہے کہ دوسرے اس کی طرف خدا کے حصول کے لئے دوڑیں نہیں اور اس کو اپنا وسیلہ بنائیں، یہ سارا مضمون اس نتیجہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔