خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 831 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 831

خطبات طاہر جلد 15 831 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء چیزیں اچانک حیرت انگیز طریق پر سوچنے لگی ہیں۔پس قرآن کا یہ جو طرز کلام جس طرح اچانک رخ پھیرا گیا ہے وہ خود صناعی کا ایک حسن پیش کرتا ہے۔اگر آپ اس مضمون کو نہ سمجھیں تو یہ دو باتیں بے معنی سی ہوں گی۔فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کیوں پھر آگ کے عذاب سے بچائے۔اگر کائنات خوبصورت ہے تو اس کا تمہاری آگ سے کیا تعلق؟۔تمہاری آگ سے یہ تعلق ہے کہ تم بھی خوبصورت ہو اور کائنات سے بہت زیادہ خوبصورت ہو ، ساری کائنات کا خلاصہ ہو۔انسان کی صناعی میں جو کچھ خلقت کی تخلیق کی صنعتیں رکھ دی گئی ہیں باہر کی کائنات کا ان کے ساتھ کوئی بھی مقابلہ نہیں اور سب سے بڑی چیز سوچ، یہ مردہ کا ئنات اچانک جاگ اٹھی اور آپ کی صورت میں جاگی ہے۔آپ دیکھ رہے ہیں ، آپ سن رہے ہیں، آپ محسوس کر رہے ہیں، آپ کا تصور وہاں تک جا پہنچا ہے جہاں تک اس کائنات کا وجود کسی صورت میں بھی آگے بڑھ نہیں سکتا تھا۔زمین اپنی ساری عظمتوں کے ساتھ اگر اس میں انسان نہ ہوتا تو اپنے تصور کو دوسرے سیاروں تک نہیں پہنچا سکتی تھی ، سورج تک بھی نہیں پہنچاسکتی تھی جس سورج سے وہ زندگی پارہی ہے۔اگر آپ انسانی سوچ اور فکر کی صلاحیتوں سے الگ کر کے اس زمین اور اس خوبصورت کا ئنات کو دیکھیں تو انسان کو نکالتے ہی یہ کائنات آپ کو عدم میں ڈوبتی ہوئی دکھائی دے گی ، کچھ بھی زمین کا باقی نہیں رہے گا، نہ ناروے ہوگا، نہ صحرائے عرب ہوگا ، نہ دوسرے ممالک، نہ سمندر، نہ خشکیاں کوئی بھی خدا تعالیٰ کی صنعتوں کا حسن اپنی ذات میں حسن کہلانے کا مستحق تو رہے گا مگر اسے حسن کہنے والا کوئی نہیں ہوگا۔جب دیکھنے کی آنکھ نہ ہو تو چیزیں عدم ہو جایا کرتی ہیں اسی لئے فلسفیوں نے اس پر ہمیشہ سے بحثیں اٹھائی ہیں۔کئی فلسفی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کائنات تو ہماری سوچ کے نتیجے میں ہے۔اگر ہم اپنی سوچ کو سمیٹنا شروع کریں اور ہر چیز جو ہمیں دکھائی دیتی ہے ، جو سنائی دیتی ہے ، جو محسوس ہوتی ہے، جو ہمیں سردی یا گرمی پہنچاتی ہے اس سے اپنے سوچ کے تعلق کاٹ لیں تو ہم تو ہوں گے مگر یہ کائنات نہیں رہے گی۔پس سوچنے والا ہے اور غور کرنے والا ہے جس کے متعلق بعض فلسفی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے وہی ہے ورنہ اس کے بغیر کوئی کائنات کا وجود نہیں۔بعض کہتے ہیں کائنات کا وجود ایک بیرونی وجود ہے ، سوچ کے ساتھ اس کا تعلق بس اتنا ہی ہے کہ اتفاق سے تم پیدا ہو گئے اور تم دیکھ رہے ہو ورنہ تم نہ بھی ہوتے تو کیا فرق پڑتا تھا۔اس کے متعلق میں نے پہلے بھی کسی وقت قرآن کریم کا وہ