خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 813
خطبات طاہر جلد 15 813 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء پس قوت قدسیہ کوئی فرضی چیز نہیں ہے۔قوت قدسیہ سچائی کے ایک معیار کا نام ہے وہ سچائی جو انسان کے ظاہر و باطن پر پوری طرح قبضہ کرلے وہ ایک اتنی بڑی طاقت بنتی ہے کہ کوئی دنیا کی دوسری طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔آنحضرت ﷺ اس مرتبہ اور مقام پر پہنچے تھے کہ جہاں ذات حق سے آپ نے اپنا وجود پوری طرح ملا دیا۔ایسا ملا دیا کہ خدا کی طاقت جو حق کی طاقت ہے وہ آپ کی ذات میں جلوہ گر ہوئی اور یہی وہ قوت قدسیہ ہے جس کا قرآن پہلے ذکر کرتا ہے اور ہر علم اور حکمت کی بات کا بعد میں ذکر کرتا ہے۔بارہا میں نے سمجھایا ہے جماعت کو کہ اس نکتہ پر غور کرو کہ قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل فرمائی اور قرآن سکھایا، آیات سکھائیں تو آیات کی تلاوت کے بعد پہلی طاقت آپ کی یہ تھی یزكِّيهِمْ - هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَلَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ (الجمعه 3) - صلى الله وہ تلاوت قرآن کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ نے جو آپ پر آیات نازل فرمائیں وہ بیان کرتا ہے ساتھ ہی یز بھم ان کا تزکیہ شروع کر دیتا ہے۔حالانکہ سب دنیا یہ بجھتی تھی بڑے بڑے انبیاء بھی اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ جب تک علم نہ دیا جائے ، جب تک علم کی حکمتیں نہ سمجھائی جائیں تزکیہ ہو نہیں سکتا۔مگر آنحضرت ﷺ اس سے مستثنیٰ ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم الشان نبی سے بھی ایک بالا قدم ہے، اوپر کا مقام ہے۔ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ اے خدا میری اولاد میں سے اور ذریت میں سے ایک ایسا نبی بر پا فرما جس کو تو کلام عطا کرے اور پھر وہ لوگوں کو علم سکھائے اور پھر وہ ان کو علم کی معرفتیں یعنی حکمتیں بتائے پھر ان کو پاک کرے۔اب یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دیکھو کتنی منطقی دعا ہے جو ایک عام انسان بلکہ ایک نبی کی سمجھ کے مطابق بھی اس طرح ہونی چاہئے اس کے سوا ممکن نہیں ہے۔اللہ پہلے اسے چنے ، اس کو آیات عطا کرے پھر وہ اللہ سے علم پا کر لوگوں کو علم سکھائے ، پھر وہ اس علم کی حکمتیں بیان کرے اور مولویوں کی طرح تشدد کے ساتھ یہ نہ کہے کہ علم ہے خدا کا مانوتو ما نو نہیں تو جاؤ جہنم میں۔محنت کرے ان پر ، ان کو ہر علم کی پس پردہ یا اس کے اندر چھپی ہوئی حکمتیں سمجھائے تا کہ دماغ بھی مطمئن ہوں اور دل بھی مطمئن ہو جائیں یہ جب کیفیت ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نتیجہ نکالا کہ اس کے بعد ایسے شخص میں تزکیہ کی طاقت پیدا ہو جائے گی۔محض علم دینے والا کسی کو پاک نہیں کر سکتا کیونکہ علم دماغ