خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 812
خطبات طاہر جلد 15 812 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء ہیں۔ایسے بڑے بڑے لفظ آتے ہیں اور پاکستان میں بڑے وہ ہر دلعزیز پروگرام ہیں لیکن ان پروگراموں کو دیکھ کر ایک بھی آدمی صالح کبھی نہیں بنا لیکن ایک آدمی جو خد ا والا ہو وہ چھوٹی سی بات کرتا - ہے اس کی بات میں وزن پیدا ہوتا ہے اس میں ایک تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔حضرت خلیفۃ امسیح الاول اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ بتاتے ہیں کہ میری ایک کمزوری تھی ، میں دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا بہت لمبے عرصے سے مگر نہیں ہو رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بغیر سامنے مخاطب کرتے ہوئے کہ تم یہ کمزوری چھوڑو ایک بات کی ہے اور وہ ایسا گہرا اثر کر گئی کہ جیسے وہ کمزوری تھی ہی نہیں لیکن ایک دفعہ نہیں ایسا با رہا ہوا ہے۔بہت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آنے والا آیا اور حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق اس کو سمجھانے کے لئے یا عام سب حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کوئی نصیحت شروع کر دی۔مثلاً ایک ان میں سے تھا جو شراب کا عادی تھا اور ایسا سخت عادی تھا کہ اس کے لئے شراب چھوڑ نا کسی صورت ممکن نہیں تھا۔حضرت خلیفتہ اسی الاول کا غالبا بیان ہے، مگر وہ نہ بھی ہو تو کسی اور مقتدر صحابی کا بیان ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے بھی اس کو سمجھایا اور کوشش کی مگر اس کے پلے بات نہیں پڑی۔باتیں ٹھیک تھیں مگر اثر نہیں پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے عموماً شراب کے متعلق بات شروع کر دی حالانکہ اس نے سوال کیا بھی نہیں تھا اور چند فقروں میں اس کے متعلق کچھ ایسی باتیں کیں کہ وہیں اس کا دل پاک ہو گیا، ہمیشہ کے لئے شراب نوشی سے نفرت ہوگئی۔تو یہ وہ قوت قدسیہ ہے جس کا ذکر آنحضرت مے کے حوالے سے قرآن میں ملتا ہے اور یہ قوت قدسیہ آپ کے غلاموں میں پیدا ہوتی ہے۔جتنا کوئی آپ کے قریب ہو اتنی ہی زیادہ وہ قوتِ قدسیہ حاصل کرتا ہے۔یہ جو مثال دی ہے اس کی تفاصیل چونکہ مجھے یاد نہیں مگر جو مرکزی نکتہ ہے وہ بالکل یہی ہے جو میں بیان کر رہا ہوں کہ بسا اوقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی کوششوں سے جو برائی کسی کی دور نہ ہوسکی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند فقروں نے اس برائی کو کاٹ پھینکا اور کثرت سے آپ کے صحابہ اس بات کے گواہ ہیں۔یہ قوت قدسیہ کا مشاہدہ تھا جو انہوں نے کیا اور یہی وہ چیز تھی جس نے ان کے اندر حیرت انگیز انقلاب بر پا کر دیا۔