خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 814 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 814

خطبات طاہر جلد 15 814 خطبہ جمعہ 18 اکتوبر 1996ء کو قائل کرتا ہے حکمتیں دل کو قائل کرتی ہیں کیونکہ جب ایک علم کے متعلق پورا یقین ہو جائے کہ یہ سچا ہے اور سمجھ آجائے کہ کیوں یہ سچا ہے تو طبعا دل پوری طرح اس کا قائل ہو جاتا ہے اور دماغ اور دل کا یہ اتحاد ہے جو تزکیہ نفس کے لئے ضروری ہے۔جب یقین ہو جائے اور دل مطمئن ہو جائے تو حضرت ابراہیم نے پھر یہ نتیجہ نکالا کہ اس کے بعد ایسا وجود ان کا تزکیہ بھی کرے گا اور یہی دعا مانگی۔جہاں بھی قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعامذکور ہے اسی طرح مذکور ہے اے خدا ان میں سے ایک ایسا شخص پیدا کر ، صرف ایک جگہ مذکور نہیں کئی جگہ ہے تین یا دو جگہ لازماً ہے، اے خدا تو ان میں سے ایسا شخص پیدا کر جس سے تو کلام کرے اس پر اپنی آیات نازل فرمائے وہ ان آیات کا علم پا کر اپنے گردو پیش ، اپنے ماحول میں وہ علم سکھانے لگے اور علم سکھانے کے بعد اس کی حکمتیں بتائے جب حکمتیں بتائے تو پھر عرض کیا ویز هم اور حکمتیں بتا کرتو پھر تزکیہ ہونا ہی ہونا ہے۔پس وہ حکمتیں بتائے اور ان کا تزکیہ یعنی ان کو پاک کرنے لگے، ان کو قدوسی بنادے۔اب عقلی طور پر اس دعا پر ایک ذرہ بھی اعتراض ممکن نہیں لیکن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام عقل کی ان حدوں سے بالا تھا یعنی عقل پر مبنی مگر اس سے اوپر کا قدم۔کا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا یہ جواب دیا کہ ہاں تیری دعا منظور ہے مگر اس ترتیب کے ساتھ۔میں ایک ایسا وجود قائم کر رہا ہوں جو خدا سے الہام پا کر علم حاصل کرتا ہے روحانی علم لیکن ساتھ ہی تزکیہ شروع کر دیتا ہے۔تزکیہ کرتا ہے تو پھر سمجھاتا ہے۔اب یہ اور ترتیب ظاہر ہوگئی۔حیرت انگیز ہے۔جس سے انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔وہ لوگ جن کے دلوں کی گندگیاں دور نہ ہوئی ہوں، جن کے اندر ٹیڑھے پن ہوں ان کو آپ بات سمجھا ئیں بھی تو کہاں تک سمجھا سکتے ہیں اور ان کو حکمتیں بھی بتائیں تو تبدیلی تو ہوگی مگر مشکل ہے کیونکہ جو شخص ٹیڑھے مزاج ، بے ہودہ سوچوں والا ، دنیا میں اٹکا ہوا اس کو عمل کی بات بھی سمجھا دیں، عمل کی حکمتیں بھی بتادیں تو پھر بھی مزاج ادھر نہیں آئے گا ، طبیعت نہیں آتی بعض دفعہ ادھر ، اس کا کیا علاج؟ اس لئے حقیقت میں کوئی بد انسان اگر زیادہ بد ہو تو علم اور حکمت کے ذریعے اصلاح پذیر ہو نہیں سکتا اس میں ضرور کچھ ٹیڑھا پن باقی رہ جائے گا لیکن ایک شخص جس کا دل پاک اور صاف ہو اور وہ سچا ہو چکا ہو اور اس کے رجحانات بچے ہو جائیں اس کو آپ علم سکھائیں اور علم کی حکمتیں بتا ئیں تو وہ