خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 800
خطبات طاہر جلد 15 800 خطبه جمعه 11 اکتوبر 1996ء کی طرف لے جانا تھا خود اس کشش کے شکار ہو گئے تو کیسے اس حسن کا مظہر بنتے جنہوں نے زمین سے توڑ کر ، سب رشتے اور تعلق کاٹ کر آسمانوں کی طرف رفعتیں عطا کرنی تھیں اس کے سوا اور کوئی اس کا منطق نہیں ہے کوئی وجہ نہیں کہ اسلام باوجود اس کے کہ قرآن وہی قرآن ہو، حدیث وہی حدیث ہو، اسلام کا عمل خواہ فقہاء میں اختلاف بھی ہو بنیادی طور پر ایک ہی ہو خدا کی عبادت کرنا ہے روزے رکھتے ہیں نمازیں پڑھنی ہیں ، زکوۃ دینی ہے، تو جو ضمنی اختلافات ہیں آپ ان کو بھلا بھی دیں اور یہ سوچیں کہ اسلام اپنی ماہیت کے لحاظ سے، اپنی قوت کے لحاظ سے، اپنی تعلیم کے لحاظ سے قرآن میں بھی محفوظ تھا ، سنت میں بھی محفوظ تھا اور اس کے باوجود اسلام نے آگے بڑھنا بند کر دیا اس لئے کہ مسلمان جو علم بردار تھے وہ خود کشش ثقل کا شکار ہو گئے ۔ وہ زمین کی طرف جھک گئے اور پھر ان میں یہ طاقت نہیں تھی کہ آسمان کی طرف بلائیں ۔ اب یہ نیا دور شروع ہوا ہے ۔ آپ اس تاریخ کے پر حکمت مطالعہ سے فائدہ اٹھائیں۔وہ تمام امور جو اسلام کی راہ میں حائل ہوئے ہیں ، وہ تمام روکیں جنہوں نے اسلام کی ترقی کی راہیں بند کر دیں ان کو دور کرنا ہے لیکن ان روکوں کی تلاش میں باہر نہ نکلیں اپنے نفس میں ڈوبیں، دیکھیں یہ تو وہی روکیں ہیں جو آپ کے اندر موجود ہیں کیونکہ اسلام کی راہ میں کوئی باہر کی روک کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ دیکھو کتنی بڑی بڑی طاقتیں تھیں جو اسلام سے ٹکرائیں اور اسلام کا رستہ روکنے کی دعویدار بن کے اٹھیں لیکن پارہ پارہ ہوگئیں ۔ اس لئے اسلام کا راستہ روکنے کے لئے کوئی بیرونی طاقت کبھی کامیاب نہیں ہوئی ہاں اندرونی خامیاں ہیں جو اسلام کا رستہ روکتی ہیں۔ سکیں۔ اب عالم اسلام کی طاقت دیکھو ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے لیکن اس ساری عالم اسلام کی ایک ارب کی جمعیت میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ اسرائیل کے ایک چھوٹے سے علاقے کا مقابلہ کر دندنا تا ہوا مسلمانوں کو مقابلے پر بلاتا ہے اور ظلم اور تشدد میں بے باکانہ کارروائیاں کرتا ہے۔ طاقت نہیں ہے ایک ارب مسلمانوں میں کہ اس کا مقابلہ کر سکیں ۔ پس انہوں نے دعوت الی اللہ کیا کرنی ہے یہ تو اپنے وزن ہی سے بیٹھ گئے ہیں ۔ کشش ثقل جتنا بڑھتی ہے اتنا ہی بے کار کرتی چلی جاتی ہے ۔ ایسا وابستہ کر دیتی ہے سطح زمین سے اور اس کے نشیب سے کہ پھر اس میں اٹھنے کی طاقت نہیں رہتی۔ ایک شاعر کہتا ہے: :