خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد 15 799 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء ہوئے۔پس وہ آسمانی طاقت ہے جو غالب آتی ہے کشش ثقل پر تبھی قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ سب چیزیں جو تمہیں فضا میں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں ان کو خدا تعالیٰ نے سہارا دیا ہوا ہے اور یہ کھڑی ہیں ورنہ زمین کی کشش اور ان چیزوں کی آپس کی ایک دوسرے کی کشش ان کو اکٹھا کر کے فنا کر دیتی۔تو آسمانی طاقت ہر دوسری طاقت پر غالب ہے یعنی سائنسی لحاظ سے بھی کوئی ایک خدا تعالیٰ ، ایک ایسا کارساز ہے، ایسا ایک کائنات کا خالق اور مالک ہے جس کی طاقت ہر لمحہ تمام کائنات کے ہر وجود کو جو معلق دکھائی دے رہا ہے سہارا دیے ہوئے ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم دیکھ نہیں رہے اس کو۔پس وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا میں جس طاقت کا ذکر ہے یہ اللہ کے ساتھ وابستہ ہونے کا حسن ہے اور یہ حسن جو ہے یہ ہر دوسری چیز پر غالب آتا ہے۔پس دیکھئے عیسائیت کی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی کس طرح اس راہ میں وہ کاٹے گئے اور مارے گئے اور انہوں نے کچھ بھی پرواہ نہ کی لیکن سب سے بڑا مظہر اس دعوت الی اللہ کے حسن کا حضرت محمد رسول اللہ لہ کی صورت میں پیدا ہوا۔دیکھیں کس شان کے ساتھ کس قوت کے ساتھ اپنے دور میں ان لوگوں کو بھی کھینچا جو آپ سے نفرت کرنے والے تھے اور ایسا کھینچا کہ جو خون کے پیاسے تھے وہ خون فدا کرنے کے لئے ترسنے لگے کہ کاش محمد رسول اللہ ﷺ پر ہمارا خون بھی نچھاور ہو سکتا۔یہ وہ آسمانی قوت ہے جو زمینی قوتوں پر غالب آنے والی ہے اور یہی محمد رسول اللہ ﷺ کی قوت حسن تھی دراصل جس نے عرب میں ایک حیرت انگیز معجزہ بر پا کیا جو پھر عرب کی سرحدوں سے چھلک کر دوسری زمینوں میں جا پہنچا اور بڑی قوت کے ساتھ ، بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا رہا ہے اور اس وقت تک یہ پھیلا ہے جب تک آنحضرت ﷺ کے حسن سے یہ لوگ حصہ پاتے رہے اور اس حسن کی کشش سے دنیا کو اپنی طرف کھینچتے صلى الله رہے اور اپنا بناتے رہے۔اب نیا دور آگیا ہے جب بیچ میں ، اس کشش اور آج کے زمانے کے درمیان ایک بڑا انقطاع پیدا ہو چکا تھا اسلام نے بڑھتے بڑھتے اپنے قدم روک لئے۔اسلام نے نہیں رو کے بلکہ در حقیقت مسلمانوں نے قدم روک لئے اور اسلام کے مظہر بنے ہوئے تھے اس لئے دنیا کو یہی دکھائی دیا کہ اسلام نے اپنے قدم روک لئے ہیں لیکن کیوں رو کے؟ کیا واقعہ ہوا؟ اس لئے کہ وہ لوگ خود دنیا کی طرف مائل ہو گئے اور جس کشش ثقل کے خلاف ان کو جہاد کرنا تھا جس سے لوگوں کو نوچ کر بلندی