خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 801
خطبات طاہر جلد 15 801 بسان نقش پائے رہ رواں کوئے تمنا میں خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء نہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لا چار بیٹھے ہیں ( انشاء اللہ خان انشاء) یہ تو اپنی عظمتوں کے نقش پا بن چکے ہیں اور اپنی تمنا کے غلام اس کے کوچے میں نقش بن کر بیٹھ گئے ہیں ان میں کہاں اٹھنے کی طاقت ہے۔وہ قدم جن کے یہ نقوش پاتھے وہ تو ان کو چھوڑ کر عظیم رفعتوں کی طرف روانہ ہو چکے ، وہ دور بدل گئے۔مگر یہ نقوش پابے طاقت ، بے سہارا آج بھی ان راہوں میں ملتے ہیں جن کا نام آج مسلمان لیا جاتا ہے۔مگر اسلام کی شان ، اسلام کی شوکت ، اسلام کی تمام صفات حسنہ جو غیر معمولی جذب کی طاقت رکھتی تھیں ان سے غائب ہو چکی ہیں۔اگر نہ ہوتیں تو یہ دردناک منظر جو آج ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے یہ پیدا ہی نہیں ہوسکتا تھا۔آپ نے بدلنا ہے اس کو ورنہ آپ وہ جماعت نہیں ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں انقلاب کے لئے پیدا کیا ہے۔آپ نے لازماً بدلنا ہے اور بدلنے کے لئے اپنے گھر سے باہر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اپنے نفس کے اندر جو کچھ بھی ہے وہ تبدیل کرنا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: 12) اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ نہ بدل دیں جو ان کے نفوس میں ہے۔پس دیکھیں دعوت الی اللہ کی اس آیت نے آپ کو کتنا وسیع اور عظیم اور کامل پیغام دیا ہے۔فرمایا خدا کی طرف بلاؤ اس سے زیادہ اچھی بات ہو نہیں سکتی۔اس سے زیادہ حسین اور دلکش جاذب نظر بات ہو نہیں سکتی لیکن اپنے آپ کو بھی بلاؤ اس کے بغیر یہ بات مکمل نہیں ہوگی۔عَمِلَ صَالِحًا نیک اعمال کی طرف رخ کرو تب تم داعی الی اللہ بننے کے اہل ہو گے اور اگر ایسا ہو جاؤ گے تو خدا تمہیں اجازت دیتا ہے کہ تم کہو کہ میں مسلمان ہوں اس کے بغیر تمہیں مسلمان کہلانے کا بھی حق نہیں ہے اور وہ شخص جسے خدا کہے کہ تم مسلمان ہو اور کہے کہ اعلان کرو جیسا کہ آنحضرت ﷺ سے اعلان کروایا کہ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 164)۔میں تو ہر مسلمان سے بڑھ کر سب سے پہلا مسلمان ہوں۔تو مسلمین کا یہ مطلب ہے یعنی حضرت محمد مصطفی عمل ہے جن صفات حسنہ کی وجہ سے مسلمان کہلائے آپ کو خدا تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اعلان کر دو کہ ہاں میں مسلمان ہوں وہ صفات حسنہ پیدا کئے بغیر آپ خدا کی طرف نہیں بلا سکتے کیونکہ وہ سوسائٹی ہے خاص طور پر