خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 796
خطبات طاہر جلد 15 796 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء نے اپنے آپ کو خدا کے سپر د کر دیا۔پس ہر وہ انسان جو دعوت الی اللہ کا شغف رکھتا ہے، اس میں مگن ہو جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے نفس کو بھی دعوت دیتا ہے کہ خدا کی طرف لوٹو ورنہ کوئی بھی تمہاری آواز پر تمہارے کہنے پر خدا کی طرف منہ نہیں کرے گا یہ ایک سوال اٹھتا ہے کہ پھر کیسے اس میں طاقت پیدا ہوتی ہے۔اس کا جواب تو اس آیت کا عنوان بن چکا ہے وَمَنْ اَحْسَنُ اس سے زیادہ بھی حسین قول کسی کا ہوسکتا ہے جولوگوں کو بھی خدا کی طرف بلائے اور اپنے آپ کو بھی خدا کی طرف بلا رہا ہو اور اس کے اعمال خوب صورت ہوتے ہوتے ایسے حسن میں ڈھل جائیں کہ اس کے قول کی تائید کرنے لگیں اور ہر دعوت سننے والا یقین کر لے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہے جو مجھے خدا کی طرف بلا رہا ہے۔یہ آپ کر کے دیکھیں دہریت کی طاقت نہیں ہے کہ اس عظیم قوت کا مقابلہ کر سکے کیونکہ حسن میں ، جوحسن خدا تعالیٰ نے اس آیت میں پیش فرمایا ہے اس میں اس قوت جاذبہ سے زیادہ طاقت ہے جس کو ہم کشش ثقل کہتے ہیں جس کا راز نیوٹن نے سمجھا اور جس کی وجہ سے آج تک سائنسی دنیا اس کی عظمت کے گیت گاتی ہے۔کشش ثقل سے بالا وہ طاقت ہے جو زمین سے رفعت عطا کرتی ہے اور آسمان کی طرف بلند کر دیتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بچے قول اور کلمہ حق کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ عمل صالح اس کو رفعت عطا کرتا ہے، اس کو بلندی دیتا ہے۔پس وہ طاقت جو کشش ثقل پر غالب آجائے وہ اس آیت میں مذکور ہے۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا اس کا قول سب دوسری جاذب نظر طاقتوں سے بڑھ جائے گا۔وہ شخص ہر دوسری کھینچنے والی طاقت پر غالب آجائے گا ورنہ ایسا نہیں ہو سکتا۔جس کا مطلب ہے سب سے زیادہ حسین اور جوسب سے زیادہ حسین ہے وہ لازماً اپنی طرف کھینچے گا۔جتنے مرضی لوگ بیٹھے ہوں بعض دفعہ عالمی طور پر حسیناؤں کے اجتماع ہو جاتے ہیں اور بڑی بڑی اس کے متعلق کارروائیاں ہوتی ہیں اخباروں میں ان کی تصویریں چھپ جاتی ہیں مگر انسانی فطرت ہے کہ لوگوں کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے نفس کے لحاظ سے جس کو حسین سمجھا جاتا ہے اسی کی طرف دوڑتا ہے۔نہ اس میں رنگ کی شرط ہے، نہ اس میں نقوش کے موٹے یا پتلے ہونے کی کوئی شرط ہے۔افریقہ میں حسن کا ایک الگ معیار ہے ، یورپ کے مختلف ممالک میں ایک الگ معیار ہے۔مغربی ممالک میں اور مشرقی ممالک میں اور۔