خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 797 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 797

خطبات طاہر جلد 15 797 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء لیکن حسن پھر حسن ہی ہے کوئی نہ کوئی اس میں موزونیت ضرور پائی جاتی ہے یعنی اس تصویر، اس حسن میں جو مختلف شکلیں ہونے کے باوجود انسانوں کو کھینچتا ہے۔اب یہ کہنا کہ مغربی قوموں کے رنگ سفید ہیں اس لئے حسین ہیں افریقہ کے رنگ سیاہ ہیں اس لئے وہ بدصورت ہیں بڑی جہالت ہوگی کیونکہ سیاہ رنگ میں بھی ایک حسن ہے جو خدا کی طرف سے عطا ہوتا ہے اگر موزونیت ہو۔اگر توازن ہو تو سیاہ رنگ میں بھی ایسی جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جن آنکھوں کو شناسائی ہو اس حسن سے، جس کا ذوق اس حسن کی شناسائی کے مطابق ڈھل چکا ہو وہ بے اختیار اس کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں۔پس احسن کا مطلب ہے ہر قسم کے حسن سے بڑھ کر جتنی بھی جاذب نظر چیزیں ہیں جو بھی دوسرے کو کھینچنے کا ادعا کرتی ہے یا کھینچنے کی طاقت رکھتی ہے ان سب سے بڑھ کر اس میں داعی الی اللہ میں حسن ہے جو خدا کی طرف بلاتا ہے غیروں کو بھی اور اپنے نفس کو بھی اور بلاتے بلاتے خدا کی آواز کے سامنے ایسا کامل طور پر جھک جاتا ہے کہ اپنے سارے وجود کو اس کے سپر د کر دیتا ہے۔مسلمین کا یہ مطلب ہے اس کا وجود اپنا نہیں رہتا خدا کا وجود بن جاتا ہے اور جب خدا کا وجود بن جائے اور خدا اس میں جلوہ گر ہو تو کو ئی سفلی طاقت اس وجود سے کسی کو ہٹا نہیں سکتی اسے اپنی طرف کھینچ نہیں سکتی تمام انبیاء کی متحدہ مشتر کہ گواہی اس کے حق میں ہے۔آغاز سے لے کر آخر تک جہاں بھی جب بھی نبی آئے ان کے اندر خدا تعالیٰ نے ایسی طاقت پیدا کر دی کہ دشمنوں کو بھی اپنی طرف کھینچ لیا اور جو ایک دفعہ کھینچے گئے پھر ان سے توڑے نہیں گئے۔بڑے بڑے مظالم ہوئے عیسائیت گواہ ہے کہ عیسائیت سے تڑوانے کی خاطر بعض مسیح کے ماننے والوں کو زندہ آگ میں جلا دیا گیا۔جانوروں کے سامنے ، بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دیا گیا لیکن وہ اپنے ایمان پر قائم رہے انہوں نے مسیح کا دامن نہیں چھوڑا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس دامن کے ساتھ خدا کا دامن وابستہ ہے اگر مسیح کا دامن چھوڑیں گے تو خدا کا دامن چھوڑ دیں گے۔وہ کون سا حسن تھا جس کو مسیح نے ایسا طاقتور بنا دیا۔یہی مسلمین والا حسن تھا کہ وہ خدا کے ہوئے ، خدا کی خاطر لوگوں کو بلا یا خدا کی صفات کو اپنی ذات میں جاری کر دیا اور پھر خدا نما بن کر اٹھے اور جب ایک خدا نما کی محبت دل میں پیدا ہو جائے تو کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو اس کے خلاف کھینچ سکے۔میں نے کشش ثقل کی مثال دی تھی اب یہ کوئی فرضی مثال نہیں کہ عملاً اس صورت حال پر