خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 795 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 795

خطبات طاہر جلد 15 795 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء اور صفات الہی کا انسان میں جلوہ گر ہونا ہی ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے یعنی اسی آیت میں ذکر ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا۔اب عمل صالح بھی محض اسلام کے ساتھ خاص نہیں ہے۔عمل صالح، قرآن کریم کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں ، ہر مذہب کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے۔ہر شخص جو ایمان لاتا ہے اور عمل صالح کرتا ہے خواہ وہ یہودی ہو خواہ عیسائی ہو اللہ تعالیٰ نے اس کو پیار کی نظر سے دیکھا ہے اگر اپنے ایمان میں سچا ہو اور اس میں دوغلا پن نہ پایا جاتا ہو، اگر یوم آخرت کا قائل ہو اور اس کے مطابق اپنے اعمال کی نگرانی کرتا ہو۔یہ وہ شرائط ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ نے عمل صالح کو تمام بنی نوع انسان کی طرف منسوب فرمایا ہے خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔تو دعوت الی اللہ دراصل دو دعوتیں ہیں یہ بات ہے جو دعوت الی اللہ کرنے والے بعض دفعہ بھول جاتے ہیں۔ایک دعوت ہے لوگوں کو خدا کی طرف بلانا اور ایک دعوت ہے اپنے آپ کو خدا کی طرف بلانا۔اپنے آپ کو جو خدا کی طرف بلانا ہے یہ اصل مشکل کام ہے اور جب تک یہ مشکل حل نہ ہوگی ، بات ہو نہیں سکتی کیونکہ منحصر ہے اس پر کہ آپ پہلے اپنے نفس کو خدا کی طرف بلائیں اور ہر دعوت جواپنے نفس کو دیں اس پر لبیک کہیں۔پس عَمِلَ صَالِحًا اور دعوت الی اللہ در اصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں صرف مخاطب بدل گئے ہیں۔دعوت الی اللہ کرنے والا داعی الی اللہ ہے جب لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہے اور داعی الی اللہ ہی ہے جب وہ اپنے وجود کو، اپنے نفس کو خدا کی طرف بلاتا ہے اور اس کے نتیجے میں عمل صالح کا دور شروع ہو جاتا ہے، اعمال صالحہ کو اپنانے کا دور جس کو ہم صبغتہ اللہ بھی کہہ سکتے ہیں یعنی اللہ کے رنگ کو اپنانا اور اس سے بہتر اور کون سے رنگ ہو سکتے ہیں۔وَمَنْ اَحْسَنُ کا جو تر جمہ ہے اس کا مطلب ہے اس سے زیادہ حسین کون ہو سکتا ہے۔حسن میں ایک کشش ہے ، حسن میں ایک جاذبیت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کر کے دیکھو جو ہم تمہیں بتارہے ہیں، اللہ کی طرف بلا ولیکن اپنے نفس کو بھی بلا ؤ اور جب اپنے نفس کو بلا چکو گے تب تم کہہ سکو گے کہ میں مسلمان ہوں۔مسلمان کا مطلب یہاں صرف مسلم بمعنی مسلمان جو عام طور پر معروف معنے ہیں وہ نہیں بلکہ وہ وسیع معنے ہیں جس کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے، جس کی رو سے حضرت ابراہیم بھی مسلمان تھے، اس سے پہلے دیگر انبیاء بھی سب مسلمان تھے، ان معنوں میں مسلمان تھے کہ جب خدا نے کہا اسلم (البقرہ: 131) اسلام لے آؤ یعنی گویا اپنے آپ کو میرے سپرد کر دو تو انہوں