خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 791

خطبات طاہر جلد 15 791 خطبہ جمعہ 11 اکتوبر 1996ء دونوں کا مطالعہ کر کے ان کے حوالے نکالے اور قطعی طور پر ثابت کیا کہ یہ عیسائیت نہ عہد نامہ قدیم سے تعلق رکھتی ہے ، نہ عہد نامہ جدید سے تعلق رکھتی ہے۔یہ بگڑے ہوئے عیسائی پادریوں کے دماغ کی پیداوار ہے اور اس پر میں ایمان نہیں لاسکتا۔ایک ہی خدا ہے جو موسیٰ کا بھی خدا تھا اور عیسی کا بھی خدا تھا اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے ، ساری کائنات کا وہی خدا ہے۔جب اس عقیدے کا اس نے اعلان کیا تو باوجود اس کے کہ وہ علمی لحاظ سے بہت ہی چوٹی کا انسان بلکہ ایسا انسان جس کی ساری دنیا میں قدر کی جاتی تھی اس کو پروفیسر شپ پیش کر کے یونیورسٹی نے اپنا فخر سمجھا تھا کہ ہماری یو نیورسٹی میں یہ پروفیسر بن کر آجائے لیکن اس کو بے عزت کر کے یونیورسٹی سے نکالا گیا۔اس کے خلاف با قاعدہ چرچ کی طرف سے ریزولیشن پیش ہوئے۔انہوں نے کہا کہ یہ لا مذہب ہو چکا ہے حالانکہ وہ تثلیث سے خدا کی طرف لوٹا تھا اور اس نے قطعاً پرواہ نہیں کی۔وہ Stipend جو اس کے لئے یونیورسٹی کی طرف سے مقرر تھا ساتھ پاؤنڈ سالانہ اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑی چیز تھی یعنی آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ساٹھ پاؤنڈ کی اس وقت کیا قیمت تھی اس نے سب قربان کر دیا مگر اپنا عقیدہ تبدیل نہیں کیا۔اس نے کہا ایک ہی خدا ہے اس کے سوا میں کسی اور عقیدے کا قائل ہو نہیں سکتا کیونکہ میرا دماغ اس کو تسلیم نہیں کرتا۔تو یورپ کے دانشوروں نے سچائی کی قیمتیں ادا کی ہیں اور جو چوٹی کے خدا پرست تھے ان کو عیسائیت نے دہریہ کر کے باہر نکالا ہے۔اس کی اور بھی مثالیں ہیں یہاں بڑے بڑے دانشور جو فلسفہ دان اور حساب دان جنہوں نے خدا کی توحید کی خاطر علم بلند کیا اور عیسائیت کے غلط عقیدوں کو رڈ کیا ان کو ان کے منصفین نے جو ان کی بائیو گرافی لکھنے والے ہیں، انہوں نے بھی دہریہ قرار دیا ، انہوں نے کہا مذہب سے متنفر اور دور ہو چکے تھے۔بہر حال یہ ایک بڑا دردناک باب ہے یورپ کی تاریخ کا جس کا مطالعہ ہمارے لئے کئی پیغام لے کر آتا ہے۔اول یہ کہ یورپ کو دہریہ کہ کر یا دہریت یا دہریت کی طرف مائل ہو کر کلیۂ رڈ کر دینا اور یہ سمجھنا کہ یہ لوگ خدا کے دشمن ہیں یہ درست نہیں ہے۔وہ لوگ جو دہریہ کہلائے ہیں ان میں بڑے بڑے خدا پرست تھے انہوں نے اپنے توحید کے عقیدے کی قیمت ادا کی ہے۔اور آج بھی اکثر جود ہر یہ ہو چکے ہیں یہ سوچ کر کہ وہ دہر یہ ہیں وہ مذہب کو مانیں گے نہیں