خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد 15 769 خطبہ جمعہ 4 اکتوبر 1996ء بحث میں الجھے رہے ہیں ، بعض احادیث سے بھی بعض استنباط ہوتے ہیں گویا حضرت موسیٰ“ وہ پہلے ہوں گے جو اٹھیں گے ، دوبارہ ہوش میں آئیں گے۔اس پہلو سے اگر وہ پہلے ہوش میں آنے والے بھی ہوں تو پھر وہ کون ہے جسے خدا بے ہوشی سے محفوظ رکھے گا اور اس کے باوجود اس کی ملکیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو میں آپ پر آج کھولنا چاہتا ہوں۔مالکیت تام ہوگی ایسی تام کہ اس میں کسی اور کے حصے کا کوئی شک شبہ کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔اس کے باوجود پھر بھی جسے اللہ چاہے گا اسے اس بے ہوشی سے مستشفی کر دے گا یعنی پہلے صور پھونکا جاتا ہے اس کی بے ہوشی۔ہے۔میرے نزدیک باوجود دوسرے علماء کے اختلاف کے یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ اس میں صلى الله من سے مراد رسول اللہ لے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتے خواہ کیسے بھی مرتبے رکھتے ہوں کبھی کسی فرشتے کے تعلق میں ان کو ملکیت میں خدا تعالیٰ کے پورے سائے تلے ، خدا تعالیٰ کی مالکیت کے سائے تلے ایک ہو جانے کا تصور نہیں ملتا۔گویا صفت مالکیت کا کامل ظہور ہوا ہے۔سوائے آنحضرت ﷺ کے جن کو خدا نے اس دنیا میں اپنی مالکیت کا مظہر بنایا ہے اور کسی نبی کا وجود نہیں ہے جو اس تصور میں رسول اللہ اللہ کا شریک ہو سکے تبھی تاکستان والی تمثیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی مضمون پیش کیا ہے کہ جب بیٹے کی بھی بات نہیں سنی جائے گی تب مالک آئے گا۔یہی وجہ ہے کہ ایک ہی نبی ہے جس کو تمثیل اللہ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ کسی نبی کو اللہ صلى الله کا نام نہیں دیا گیا۔اللہ کا نام کسی اور نبی کو دینا محفوظ نہیں تھا کیونکہ خدا کا نام کامل طور پر آنحضرت ﷺے صلى الله پر اطلاق پا کر محفوظ رہتا ہے اور اس بات کا شائبہ بھی پیدا نہیں ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ اللہ بن گئے ہیں یا اللہ کی صفات میں برابر کے شریک ہو گئے ہیں۔پس مالکیت بھی اسی کو سونپی جانی تھی جس کے پاس مالکیت محفوظ ہے۔جو اس کامل طور پر اپنے وجود کو کھو چکا ہے کہ واہمہ بھی پیدا نہیں ہوسکتا کہ یہ وجود جسے خدا اپنی مالکیت میں شریک کر رہا ہے خود واقعہ مالک بن بیٹھے گا۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163 ) تو کہہ دے کہ میرا اپنا تو کچھ رہا ہی نہیں باقی۔میرا مرنا جینا، میری عبادتیں میری قربانیاں سب کچھ کلیۂ خدا کی ہو چکی ہیں۔ایک ایک سانس ،ایک ایک لمحہ میرے اللہ کا ہوچکا ہے یہ وہ وجود ہے جسے خدا نے مالک فرما دیا ، مالکیت میں اپنا شریک کرلیا۔پس اگر قیامت کے دن مالکیت کلیۂ خدا کی طرف لوٹ جائے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا